Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5248

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَغْبِطَنَّ فَاجِرًا بِنِعْمَةٍ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا هُوَ لَاقٍ بَعْدَ مَوْتِهِ، إِنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ قَاتِلًا لَا يَمُوتُ". يَعْنِي النَّارَ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السّنة".

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تغبطن فاجرا بنعمة، فإنك لا تدري ما هو لاق بعد موته، إن له عند الله قاتلا لا يموت". يعني النار. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم کسی بدعمل پر کسی نعمت کی وجہ سے رشک نہ کرو ۱؎کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ مرے بعد کس چیز سے ملے گا ۲؎اس کے لیے الله کے نزدیک نہ مرنے والا جان لیوا ہے یعنی آگ ۳؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎نعمت سے مراد دنیاوی نعمت ہے جیسے اولاد،مال ظاہری،دنیاوی عزت حکومت وغیرہ یعنی اگر کسی بدکار سیاہ کار کو یہ نعمتیں مل جاویں تو تم اس پر رشک نہ کرو،نہ یہ خیال کرو کہ الله تعالٰی اس سے راضی و خوش ہے۔
۲
؎یعنی اس کے لیے یہ نعمتیں بعد موت مصیبت بن جائیں گی جن سے اس کے عذاب میں اور زیادتی ہوگی لہذا یہ نعمت راحت کی شکل میں عذاب ہے۔
۳
؎یعنی ان نعمتوں کا انجام اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے اگر یہ غریب ہوتا تو شاید توبہ کرلتیا راحت و امیری میں توبہ سے محروم رہا لہذا دوزخ میں گیا یا اگر یہ غریب ہوتا تو گناہ کم کرتا۔دولت پاکر گناہ زیادہ کیے دوزخ کے سخت تر طبقے میں گیا،دولت سے دروازے کھل جاتے ہیں مؤمن کے لیے نیکیوں کے کافروں کے لیے گناہوں کے ۔قاتلسے مراد ایذاء وہ چیز ہے،لایموتسے مراد ہے غیر فانی،دوزخ کی آگ کو فنا نہیں ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5248