Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5238

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ وَقَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن سعيد المقبري عن أبي هريرة: أنه مر بقوم بين أيديهم شاة مصلية، فدعوه فأبى أن يأكل وقال: خرج النبي -صلى الله عليه وسلم- من الدنيا ولم يشبع من خبز الشعير. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید مقبری سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے راوی کہ وہ ایک قوم پر گزرے جن کے سامنے بھنی بکری تھی انہوں نے آپ کو بلایا تو آپ نے کھانے سے انکار کردیا ۲؎اور فرمایا کہ نبی صلی الله علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے حالانکہ جو کی روٹی سے سیر نہ ہوئے ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سعید ہے،آپ کے والد کا نام کیسان ہے،کنیت ابو سعید یہ دونوں باپ بیٹے تابعی ہیں،چونکہ ان کا گھر قبرستان کے کنارہ تھا اس لیے انہیں مقبری کہتے ہیں۔سعید کی ملاقات حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ ،عائشہ رضی الله عنھا سے ہے ،آخر عمر ان کی عقل میں فتو ر ہوگیا تھا اس لیے آپ کی بڑھاپے کی روایات معتبر نہیں ہیں،پہلے کی روایات مقبول ہیں۔(از اشعہ ،مرقات)
۲
؎انکار کی وجہ آگے آرہی ہے اس وقت کچھ حضور کے ان حالات کا دھیان آگیا تو دل بے قرار ہوگیا،بھونی بکری کھانے کی طرف مائل نہ ہوا اس لیے نہ کھانا کھایا۔دوسرے اوقات میں حضرت ابوہریرہ نے اچھے کھانے بھی کھائے ہیں،اچھے کپڑے بھی پہنے ہیں،دل کے حالات مختلف ہوتے ہیں جیساکہ ہر شخص کو تجربہ ہے۔
۳
؎یعنی مجھے اس وقت خیال یہ آگیا ہے کہ میرے محبوب صلی الله علیہ وسلم تو زندگی شریف میں جو کی روٹی سے مسلسل سیر نہ ہوئے اور میں بھونی بکری کھاؤں دل نہیں چاہتا۔ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ فتح خیبر سے پہلے تو آمدنی کم ہونے کی وجہ سے یہ حالت تھی اور فتح خیبر کے بعد ترک دنیا بہت سخاوت کی وجہ سے یہ حالت رہی لہذا حدیث واضح ہے ۔خیال رہے کہ یہاں مسلسل نہ کھانے کا ذکر ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور انور نے بھنا مرغ بھی کھایا ہے مگر کبھی شاذ و نادر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5238