Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5242

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا نَظَرَ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ..
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: "انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ، فَهُوَ أَجْدَرُ أَنْ لَا تَزْدَرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ".

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا نظر أحدكم إلى من فضل عليه في المال والخلق فلينظر إلى من هو أسفل منه"متفق عليه..
وفي رواية لمسلم قال: "انظروا إلى من هو أسفل منكم ولا تنظروا إلى من هو فوقكم، فهو أجدر أن لا تزدروا نعمة الله عليكم".

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اسے دیکھے جسے اس پر مال و اعضاء میں بڑائی دی گئی ہے تو اسے بھی دیکھ لے جو اس سے نیچے ہے ۱؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا تم اپنے سے نیچے کو دیکھو اپنے سے اوپر کو نہ دیکھو یہ عمل اس کا باعث ہے کہ تم الله کی نعمت کی ناقدری نہ کرو ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر تم کبھی ایسے شخص کو جو صحت یا دولت میں تم سے زیادہ ہو اور تم کو اس پر رنج ہو تو فورًا ایسے کو بھی دیکھو جو صحت دولت میں تم سے کم ہے اور خدا کا شکر کرو ۔حضرت سعدی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے پاس جوتا نہ تھا میں لوگوں کو جوتا پہنے دیکھ کر رو رہا تھا،اچانک میں نے اسے دیکھا جس کے پاس پاؤں نہ تھے وہ چوتڑوں سے گھسٹ رہا تھا میں سجدہ میں گر کے شکر کرنے لگا،یہ ہے اس حدیث پر عمل اس سے دل کو بہت تسکین ہوتی ہے۔
۲
؎دنیاوی چیزوں میں اپنے سے نیچے کو دیکھو تاکہ تم شکر کرو اور دین کی چیزوں میں اپنے سے اوپر کو دیکھو تاکہ تم اپنی عبادت پر تکبر نہ کرو،اگر تم پنجگانہ نماز پڑھتے ہو تو انہیں دیکھو جو تہجد اور اشراق بھی پڑھتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5242