Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5251

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ: يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن محمود بن لبيد أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: اثنتان يكرههما ابن آدم: يكره الموت والموت خير للمؤمن من الفتنة، ويكره قلة المال وقلة المال أقل للحساب. رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمود ابن لبید سے ۱؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو چیزیں ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے،وہ موت کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ موت مؤمن کے لیے فتنے سے بہتر ہے ۲؎اور مال کی کمی کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ مال کی کمی حساب کو کم کردے گی ۳؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ انصاری شبلی ہیں،عہدِ رسالت میں پیدا ہوئے،صحیح یہ ہے کہ آپ صحابی ہیں، ۹۶ھ؁ میں آپ کی وفات ہے۔
۲
؎زندگی وہ اچھی ہے جو رب تعالٰی کی اطاعت میں صرف ہو،کفروطغیان و عصیان کی زندگی سے موت بہتر ہے یہاں یہ ہی مراد ہے۔فتنہ سے مراد ہے گناہ و غفلت وغیرہ۔حضورصلی الله علیہ وسلم ایک دعا مانگتے تھے جس کے آخر میں یہ تھاو اذا اردت بعبادك فتنۃ فاقبضنی الیك غیر مفتونمولٰی جب تو اپنے بندوں کو فتنہ میں مبتلا کرے تو مجھے بغیر مبتلا کیے ہوئے موت دیدے۔
۳
؎یہ ان امیروں کے لیے ہے جن کا حساب ہونا ہے،واقعی ایسی امیری سے غریبی اچھی کہ اس غریبی میں جنجال وبال بہت کم ہوتے ہیں،ہاں جن امیروں کا حساب نہیں وہ تو بڑے مزے میں ہیں جیسے حضر ت عثمان غنی اور دوسرے امیر المؤمنین۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5251