Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5253

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ وَمَا لِي وَلبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلَالٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وقَالَ: وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: حِينَ خَرَجَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- هَارِبًا مِنْ مَكَّةَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، إِنَّمَا كَانَ مَعَ بِلَالٍ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَحْمِلُ تحتَ إِبْطِهِ.

وعن أنس أنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لقد أخفت في الله وما يخاف أحد، ولقد أوذيت في الله وما يؤذى أحد، ولقد أتت علي ثلاثون من بين ليلة ويوم وما لي ولبلال طعام يأكله ذو كبد إلا شيء يواريه إبط بلال". رواه الترمذي وقال: ومعنى هذا الحديث: حين خرج النبي -صلى الله عليه وسلم- هاربا من مكة ومعه بلال، إنما كان مع بلال من الطعام ما يحمل تحت إبطه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے انہوں نے فرمایا کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں الله کی راہ میں بہت ڈرایا گیا جتنا کوئی نہیں ڈرایا جاتا ۱؎اور میں الله کی راہ میں ستایا گیا ایسا کوئی نہیں ستایا جاتا ۲؎اور مجھ پر تیس دن و رات ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے لیے کھانا نہ تھا جو کلیجے والا کھا سکے سواء اس قدر کے جسے بلال کی بغل چھپائے ہوئے تھی ۳؎(ترمذی)اور فرمایا کہ اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ جب نبی صلی الله علیہ وسلم مکہ معظمہ سے روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ بلا ل تھے اور بلال کے ساتھ اتنا کھانا تھا جسے وہ اپنی بغل میں دبائے ہوئے تھے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دین کی تبلیغ قرآن کریم کی اشاعت کے سلسلے میں جتنا کفار نے مجھے ڈرایا اتنا کسی نبی کو ان کی قوم نے نہیں ڈرایا۔
۲
؎اس فرمان عالی ٍسے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ دین کی تبلیغ میں جتنا کفار نے مجھے ستایا اتنا کسی نبی کو نہیں ستایا۔دوسرے یہ کہ جب کفار مکہ نے مجھے بہت ستایا تب میں اکیلا تھا میرے ساتھ طاقتور مسلمان نہ تھے،جب لوگ ایمان لائے تو کفار کا زور کم ہوگیا انہیں کم ستایا گیا،مرقات نے یہ ہی دوسرے معنی کیے ،اشعۃ اللمعات نے پہلے معنی کیے ۔نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم سے تکلیفیں اٹھائیں اور حضور انور نے تئیس سال مگر یہ تئیس سال کی تکالیف ان ساڑھے نو سو برس کی تکالیف سے سخت تر ہیں،چونکہ حضور نبیوں کے سردار ہیں اس لیے آپ کی مشکلات بھی زیادہ ہیں۔ ایک شاعر کہتا ہے شعر
بڑوں کو دکھ بہت ہیں چھوٹوں سے دکھ دور تارے سب نیارے ہیں گہن چاند اور سورج
یعنی چاند سورج کو گہن لگتا ہے تاروں کو نہیں لگتا،بڑوں کو دکھ ہوتا ہے چھوٹوں کو نہیں۔
۳
؎یہ واقعہ ہجرت کا نہیں ہے کیونکہ ہجرت میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ صرف ابوبکر صدیق تھے حضرت بلال ساتھ نہ تھے بلکہ یہ واقعہ طائف شریف تبلیغ کے لیے تشریف لے جانے کا ہے۔خیال رہے کہ نبوت کے دسویں سال جناب ابوطالب کی وفات ہوئی اور پانچویں دن حضرت ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ کی وفات ہوگئی،حضور نے اس سال کا نام عام الحزن رکھا یعنی رنج و غم کا سال۔تین ماہ کے بعد آخر شوال میں حضور صلی الله علیہ وسلم طائف کی تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے اس سفر میں آپ کے ساتھ حضرت زید ابن حارثہ تھے،آپ نے طائف کے سردار بنی ثقیف کے معتمد شخص عبید یا لیل ابن عبد کلال کو تبلیغ کی اس نے آپ کے پیچھے طائف کے آوارہ لوگ اور وہاں کے لونڈے لگادیئے جنہوں نے حضور انور کو پتھروں سے زخمی کردیا،جناب زید ابن حارثہ نے آپ کو بچالیا تو ان کا سر زخموں سے چور ہوگیا تب جبریل امین نے آکر عرض کیا یارسول الله حکم دیں تو ہم طائف کے پہاڑوں کو ملادیں جس سے یہ لوگ پس جاویں،فرمایا اگر یہ لوگ ایمان نہ لائے تو ممکن ہے ان کی اولاد مسلمان ہوجائے۔شعر
الہٰ العالمین کر رحم طائف کے مکینوں پر الٰہی پھول برسا پتھروں والی زمینوں پر
وہ واقعہ بھی یہاں مراد نہیں کیونکہ اس سفر میں حضرت بلال حضور کے ساتھ نہ تھے بلکہ حضرت زید ابن حارثہ ساتھ تھے ،یہاں طائف کا کوئی اور سفر مراد ہے جس میں حضرت بلال حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔(لمعات،مرقات)بعض نے فرمایا حضور نے طائف کے بہت سفر کیے ہیں
۔ ذوکبدفرماکر یہ بتایاکہ ہم دونوں کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جو کوئی جانور بھی کھا سکے چہ جائیکہ انسان کھائے۔
۴
؎ظاہر ہے کہ بغل میں کھانا بہت ہی تھوڑا سا سمائے گا چار چھ روٹیاں اتنا کھانا اور تیس دن دو صاحبوں کا گزارہ۔اس سید الصابرین پر لاکھوں سلام ہوں الله تعالٰی ہم تمام کی طرف سے جزا الجزاء عطا فرمائے کہ تبلیغ میں ایسی مشقتیں اٹھائیں جن کی مثال نہ ملے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5253