Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5246

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "ابْغُونِي فِي ضُعَفَائِكُمْ؛ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ -أَوْ تُنْصَرُونَ- بِضُعَفَائِكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي الدرداء عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "ابغوني في ضعفائكم؛ فإنما ترزقون -أو تنصرون- بضعفائكم". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا مجھے اپنے کمزوروں میں تلاش کرو ۱؎تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے ہی روزی اور فتح دیئے جاتے ہو ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ضعفاءسے مراد وہ نیک مؤمن ہیں جن میں کبھی شیخی شان نہیں ہوتی۔حضور صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے ایسے نیک مؤمنوں میں ڈھونڈو میں ان میں ملوں گا۔ڈھونڈو کا مطلب یہ ہے کہ ان فقراء و مساکین کی خدمت کرو جس سے وہ راضی ہوجائیں ان کی مجلسوں میں حاضر رہو۔یہاں مرقات نے بحوالہ ابن مالک فرمایا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم روحانی توجہ سے تو ہر دم ان مقبولوں کی مجلس میں رہتے ہیں مگر کبھی کبھی جسمًا وصورۃً بھی ان مجلسوں میں تشریف فرما ہوتے ہیں۔(مرقات)ایسی پاک مجلسوں میں اگر کوئی اجنبی شخص پرنظر پڑے تو اس سے مصافحہ ضرور کرے،ممکن ہے کہ اس گروہ میں کوئی شہسوار ہو۔حضرت جبریل شکل انسانی میں حضور کی بارگاہ میں آتے تھے،خضر علیہ السلام مختلف انسانی شکلوں میں لوگوں سے ملاقات کرتے رہتے ہیں،حضور صلی الله علیہ وسلم اپنے بعض امتیوں کے جنازہ میں شرکت کرتے ہیں،حضرت ابوہریرہ اور حضور نبی صلی الله علیہ وسلم نے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب کی پہلی محراب ختم ہونے پر ختم شریف کی مجلس میں شرکت فرمائی۔چنانچہ فتاویٰ عزیزیہ کے مقدمہ ص۱۳ میں شاہ عبدالعزیز صاحب کے حالات میں یہ واقعہ بالتفصیل مذکور ہے۔عبارت یہ ہے نامش پر سید ندگفت ابوہریرہ کہ نعت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم فرمودہ بودند امروز ختم قرآن عبدالعزیز است ماخواہیم رفت و مراد رجاء دیگر بکارے فرستادہ بودند ازیں جہت تاخیر واقع شد ایں گفت و غائب شد۔فتاویٰ عزیزیہ ص ۱۳ عرس بزرگاں،میلاد شریف کی مجلسوں،بزرگان دین کی زیارات میں شرکت کرنے کا مقصد یہ ہی ہوتا ہے کہ شاید یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم کی قدم بوسی نصیب ہوجائے۔
گدا بن کر میں ڈھونڈوں تم کو گھر گھر مرے آقا مجھے چھوڑا ہے کس پر
آخرت میں حضور کے ملنے کے تین مقام ہیں: لب کوثر،میزان،صراط۔دنیا میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ملنے کی جگہ بزرگوں کی مجلسیں ہیں ان سے دوری الله رسول سے دوری ہے۔مولانا فرماتے ہیں شعر
چوں شدی دوراز حضور اولیاء ایں چنیں واں دور گشتی از
خدا
۲
؎کیونکہ ضعفاء میں قطب اور اوتاد ولی ہوتے ہیں،قطبوں اوتادوں سے دنیا کا نظام قائم ہے اگر یہ رہیں تو دنیا رہے جیسے خیمہ چوب اور عناب میخوں سے قائم ہے اگر یہ نہ رہیں تو خیمہ گرجائے آسمان کا خیمہ ان بزرگوں سے قائم ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5246