Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5263

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: مَنْ رَضِيَ مِنَ اللَّهِ بِالْيَسِيرِ مِنَ الرِّزْقِ، رَضِيَ اللَّه مِنْهُ بِالْقَلِيلِ من الْعَمَل".

وعن علي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: من رضي من الله باليسير من الرزق، رضي الله منه بالقليل من العمل".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو الله کے تھوڑے رزق پر راضی ہوگا تو الله اس کے تھوڑےعمل پر راضی ہوگا۱؎(بیہقی)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ الله تعالٰی کی رضا دو قسم کی ہے: رضا ء ازلی،دوسری رضاء ابدی۔الله کی رضا ازلی ہماری رضا سے پہلے ہے جب وہ ہم سے راضی ہوتا ہے تو ہم کو نیکیوں کی توفیق ملتی ہے مگر رضا ء ابدی ہماری رضاء کے بعد ہے،جب ہم اسے راضی ہوجاتے ہیں نیکیاں کرلیتے ہیں تو وہ ہم سے راضی ہوتا ہے۔یہاں رضا ابدی کا ذکرہے اس لیے بندے کی رضا پہلے بیان ہوئی او راس آیت کریمہ میں "رَضِیَα اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ"رضا ء ازلی کا ذکر ہے اس لیے وہاں رضاء الٰہی کا پہلے ذکر ہے۔(مرقات)حدیث کا مطلب ظاہر ہے کہ اگر تم معمولی روزی پا کر بہت شکر کرو تو رب تعالٰی تمہارے معمولی اعمال کی بہت قدر فرمائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5263