Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5409

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الأُولَى -يَعْنِي مَقْتَلَ عُثْمَانَ- فَلَمْ يَبْقَ مِنْ أَصْحَابٍ بَدْرٍ أَحَدٌ، ثُمَّ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الثَّانِيةُ -يَعْنِي الْحَرَّةَ- فَلَمْ يَبْقَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ أَحَدٌ، ثُمَّ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ الثَّالِثَةُ فَلَمْ تُرْفَعْ وَبِالنَّاسِ طَبَاخٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن ابن المسيب قال: وقعت الفتنة الأولى -يعني مقتل عثمان- فلم يبق من أصحاب بدر أحد، ثم وقعت الفتنة الثانية -يعني الحرة- فلم يبق من أصحاب الحديبية أحد، ثم وقعت الفتنة الثالثة فلم ترفع وبالناس طباخ. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسیب سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ پہلا فتنہ یعنی قتل عثمان واقع ہوا تو بدر والے صحابہ میں کوئی نہ بچا۲؎پھر دوسرا فتنہ یعنی حرہ واقع ہوا تو حدیبیہ والوں میں سے کوئی نہ بچا۳؎پھر تیسرا فتنہ واقع ہوا۴؎تو وہ نہ اٹھا حالانکہ لوگوں میں قوت رہی ہو ۵؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کانام سعید ابن مسیب ہے،جلیل القدر تابعی ہیں،آپ نے خلفاء راشدین کو دیکھا ہے۔۲؎یعنی اصحاب بدر نے دو فتنے نہ دیکھے بلکہ پہلا فتنہ یعنی شہادت عثمان غنی دیکھی جو ۳۵ھ؁ پینتیس میں ہوئی،اس کے بعد سے دوسرے فتنہ سے پہلے پہلے تمام بدری صحابہ وفات پا گئے،یہ مطلب نہیں کہ شہادت عثمان کے موقعہ تمام بدری صحابہ شہید ہوگئے۔آخری بدری صحابی حضرت سعد ابن ابی وقاص ہیں جو جنگ حرہ سے چند سال پہلے وفات پاگئے۔(لمعات،مرقات)۳؎فتنہ حرہ ۶۳ھ؁ میں واقعہ ہوا جب کہ یزید ابن معاویہ نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی،اس کے بعد سے تیسرے فتنہ تک حدیبیہ والے صحابہ میں سے کوئی نہ رہا،تیسرے فتنہ سے پہلے وہ حضرات وفات پا گئے یہ مطلب نہیں کہ حرہ میں سارے حدیبیہ والے شہید ہوگئے۔۴؎بعض شارحین نے کہا کہ تیسرے فتنہ سے مراد عبدالله ابن زبیر اور حجاج ابن یوسف کی جنگ ہے مگر یہ درست نہیں کیونکہ یہ جنگ ۷۴ھ؁ چوہتر میں ہوئی،اس وقت مسلمانوں میں صحابہ کرام بہت موجود تھے،بعض نے کہا کہ اس سے مراد ازارقہ کا فتنہ ہے مگر یہ بھی درست نہیں کہ یہ فتنہ مدینہ منورہ میں نہ تھا بلکہ عالمگیر تھا۔درست یہ ہے کہ اس سے مراد ابن حمزہ خارجی کا فتنہ ہے جو مروان ابن محمد بن مروان ابن حکم کے زمانہ میں ہوا۔۵؎طباخط کے کسرہ سے بمعنی قوت و عقل،یہاں مراد ہے کہ اس زمانہ میں کوئی صحابی باقی نہ رہا زمین حضرات صحابہ کرام سے خالی ہوگئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5409