Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5384

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "سَیَكُونُ فِتَنٌ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمٌ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فليَعُذْ بِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: "تَكُونُ فِتْنَة النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْيَقْظَانِ، واليقظانُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَسْتَعِذْ بِهِ".

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "سیكون فتن، القاعد فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي، من تشرف لها تستشرفه، فمن وجد ملجأ أو معاذا فليعذ به". متفق عليه.
وفي رواية لمسلم: قال: "تكون فتنة النائم فيها خير من اليقظان، واليقظان فيها خير من القائم، والقائم فيها خير من الساعي، فمن وجد ملجأ أو معاذا فليستعذ به".

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے عنقریب ایسے فتنے ہوں گے ان میں بیٹھ رہنے والا بہتر ہوگاکھڑے ہونے والے سے اور ان میں کھڑا ہونے والا بہتر ہوگا چلنے والے سے اور ان میں چلنے والا بہتر ہوگا دوڑنے والے سے ۱؎جو ان کی طرف جھانکے گا وہ اسے اچک لیں گے تو جو کوئی پناہ یا ٹھکانہ پائے تو اس کی پناہ لے لے ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا ایسے فتنے ہوں گے کہ ان میں سونے والا جاگنے والے سے بہتر ہوگا۳؎اور ان میں جاگنے والا کھڑے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۴؎جو کوئی ٹھکانا یا پناہ پائے تو اس کی پناہ لے لے۵؎

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی میں بیٹھنا،کھڑا ہونا،چلنا اور دوڑنا بطور تشبیہ و استعارہ ارشاد ہوا ہے۔بیٹھنے سے مراد ہے ان فتنوں سے الگ تھلگ رہنا،ان سے بالکل واسطہ نہ رکھنا،یہ ذریعہ ہوگا فتنوں سے حفاظت کا کہ وہ نہ فتنوں کو دیکھے گا نہ ان کا اثر لے گا۔اور کھڑے ہونے سے مراد ہے دور سے انہیں دیکھنا،ان پر خبردار اور مطلع ہونا۔چلنے سے مراد ہے ان میں مشغول ہونا مگر معمولی طور پر۔اور دوڑنے سے مراد ہے ان میں خوب مشغول ہونا غرضیکہ عجیب استعارات ہیں۔
۲
؎بعض صحابہ کرام نے جنگ جمل و صفین کو اسی حدیث میں داخل مانا اور وہ حضرات ان جنگوں میں غیر جانب دار رہے جیسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مگر قوی یہ ہے کہ ان جنگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے دوسرے حضرات سے اجتہادی غلطی ہوئی تھی۔
۳
؎یہاں بھینائمسے مراد بے خبر بے شعور ہے یعنی جو فتنوں سے ایسا بے خبر ہو کہ اسے ان کی خبر بھی نہ ہو۔یقطانسے مراد ہے خبردار کہ اسے ان فتنوں کی خبر تو ہو مگر اس میں شریک نہ ہو،خبر سے مراد ہے خود بخود خبر ہونا نہ کہ ان کی خبر رکھنا۔
۴
؎قائمسے مراد ہے باقی،قاعدہ اس فتنہ کی خبر رکھنے والا مگر اس میں شریک نہیں لہذا بیدار اور قائم میں فرق ظاہر ہے۔
۵
؎ٹھکانہ سے مراد ہے امن کی جگہ اور پناہ سے مراد ہے وہ آدمی جو اسے فتنوں سے بچالے یعنی یا تو پناہ کی جگہ چلا جائے یا ایسے شخص کے پاس رہے جو اس کو ان فتنوں سے بچائے۔(مرقات)لہذا عبارت میں تکرار نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5384