Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5381

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- حَدِيثَيْنِ، رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ، حَدَّثَنَا: "إِنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ"وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا قَالَ: "يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ،كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ،وَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، فَيُقَالُ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدُهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: حدثنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حديثين، رأيت أحدهما وأنا أنتظر الآخر، حدثنا: "إن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال، ثم علموا من القرآن، ثم علموا من السنة"وحدثنا عن رفعها قال: "ينام الرجل النومة فتقبض الأمانة من قلبه، فيظل أثرها مثل أثر الوكت، ثم ينام النومة فتقبض، فيبقى أثرها مثل أثر المجل،كجمر دحرجته على رجلك فنفط، فتراه منتبرا وليس فيه شيء،ويصبح الناس يتبايعون ولا يكاد أحد يؤدي الأمانة، فيقال: إن في بني فلان رجلا أمينا، ويقال للرجل: ما أعقله وما أظرفه وما أجلده وما في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دو خبریں بتائیں ۱؎جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی اور دوسری کا منتظر ہوں۲؎ہم کو خبر دی کہ امانت لوگوں کے دلوں کے اصل میں اتر ی ہے۳؎پھر لوگوں نے قرآن سیکھا پھر حدیث سیکھی۴؎اور حضور نے ہم کو اس کے اٹھ جانے کی خبر دی ۵؎فرمایا آدمی ایک نیند سوئے گا تو اس کے دل سے امانت قبض کرلی جاوے گی۶؎تو اس کا اثر چھالے کی طرح رہ جاتا ہے ۷؎پھر ایک نیند سوئے گا تو امانت قبض کرلی جاوے گی حتی کہ اس کا اثر آبلے کی طرح ہوجاوے گا۸؎جیسے تم اپنے پاؤں پر چنگاری لگاؤ تو ابھار ہو جاوے تم اسے پھولا ہوا دیکھو جس میں کچھ بھی نہ ہو ۹؎لوگ خریدو فروخت کریں گے اور کوئی بھی امانت ادا نہ کرے گا۱۰؎حتی کہ کہا جاوے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک امانت دار شخص ہے ۱۱؎اور کسی شخص کے متعلق کہا جاوے کہ وہ کیسا عقلمند ہے کیسا خوش طبع ہے کیسا بہادر ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کی برابر ایمان نہ ہوگا ۱۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فتنوں کے زمانوں میں امانت کے متعلق دو خبریں دی لہذا یہ حدیثکتاب الفتنکے مناسب ہے۔
۲
؎حضور انور نے نزول امانت کی بھی خبر دی اور اس امانت کے اٹھ جانے کی بھی دی،میں نے امانت کا نزول تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اس کے اٹھ جانے کا منتظر ہوں نہ معلوم یہ واقعہ میری زندگی میں ہو یا میرے بعد۔
۳
؎امانت سے مراد یا تو ایمان ہے یا شرعی احکام،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ"۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد دیانتداری ہو خیانت کی مقابل۔
۴
؎اس سے معلوم ہوا کہ دلوں میں توفیق خیر پہلے ہوتی ہے،قرآن و حدیث کا سیکھنا عمل کرنا بعد میں میسر ہوتا ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم نے دیکھ لیں۔
۵
؎یعنی آخر زمانہ میں روشنی ایمان دلوں سے نکل جاوے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ قرآن و سنت پڑھنا ان پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے۔
۶
؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں سونے سے مراد علم دین سے غفلت کرنا ہے اورنومۃسے مراد معمولی غفلت ہے اس لیے کہ اس سے پہلے قرآن و سنت کے علم کا ذکر ہوا یعنی لوگ علم دین سے معمولی غفلت کریں گے تو اس کا نتیجہ وہ ہوگا جو یہاں مذکور ہے۔(اشعہ)اور ہوسکتا ہے کہنومسے مراد سونا ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے انقلاب کا حال یہ ہوگا کہ ابھی سونے سے پہلے دل کا اور حال تھا اور سوتے ہی کچھ اور ہوگیا۔(مرقات)
۷
؎وکتواؤ کے فتحہ کاف کے سکون سے جمع ہےوکتۃکی بمعنی نقطہ سفید جو آنکھ کی سیاہ پتلی میں ہو،چھوٹے چھالے یا چھوٹے تل کو بھیوکتکہتے ہیں خواہ کالا تل ہو یا سرخ یعنی امین آدمی کے دل سے امانت ختم ہوجاوے گی مگر کچھ اثر باقی رہے گا۔
۸
؎مجلمیم کے فتح جیم کے سکون سے،آبلہ چھالا جو زیادہ کام کرنے سے ہاتھوں میں پڑ جاتا ہے،کھال سخت ہوجاتی ہے یعنی لوگوں کے دلوں سے امانت آہستہ آہستہ اٹھے گی،ایک بار غفلت میں امانت جائے گی دل میں خیانت آوے گی مگر معمولی جیسے چھالا دوبارہ غفلت میں یہ خیانت دل میں سخت ہوجاوے گی جیسے کام کرنے والوں کے ہاتھ کے سخت دہٹے آبلے۔
۹
؎یہ مضمون علیحدہ ہے یعنی اگر کسی کا عضو معمولی چنگاری سے جل جاوے وہاں چھالا پڑ جاوے تو چھالا ابھرا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر اس میں سواء گندے پانی کے ہوتا کچھ نہیں،یوں ہی اس زمانہ کے لوگ لباس و شکل میں بہت اچھے دکھائی دیں گے مگر انکی دلوں میں خیر نہ ہوگی برائی ہی ہوگی۔
۱۰
؎یعنی وہ لوگ آپس میں خرید و فروخت اور دوسرے مالی معاملات کریں گے مگر امین نہ ہوں گے،تجارتوں میں خیانت ملاوٹ سب ہی کچھ کریں گے اپنی زبان پر قائم نہ رہیں گے۔۱۱؎یعنی امین آدمیوں کی اتنی کمی ہوجاوے گی کہ اگر کسی شہر کسی قبیلہ میں کوئی ایک امین ہوگا تو لوگ دور دور اس کا چرچہ کریں گے کہ اس علاقہ میں صرف وہ شخص امین ہے۔
۱۲
؎یعنی آخر زمانہ میں لوگوں کی چالاکی دنیاکمانا چست و چالاکی ہونے کی تو تعریف ہوگی مگر اس کے دین تقویٰ امانت کا ذکر بھی نہ کیا جاوے گا،وہ ہوگا بے ایمان خائن جیساکہ آج کل عام چودھریوں نمبرداروں دنیا داروں میں دیکھا جاتا ہے، ہاں بعض الله کے مقبول بھی ہوتے ہیں مگر تھوڑے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5381