- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5381
باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5381
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- حَدِيثَيْنِ، رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الآخَرَ، حَدَّثَنَا: "إِنَّ الأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ"وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا قَالَ: "يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ، فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ،كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ،وَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الأَمَانَةَ، فَيُقَالُ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدُهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه قال: حدثنا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- حديثين، رأيت أحدهما وأنا أنتظر الآخر، حدثنا: "إن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال، ثم علموا من القرآن، ثم علموا من السنة"وحدثنا عن رفعها قال: "ينام الرجل النومة فتقبض الأمانة من قلبه، فيظل أثرها مثل أثر الوكت، ثم ينام النومة فتقبض، فيبقى أثرها مثل أثر المجل،كجمر دحرجته على رجلك فنفط، فتراه منتبرا وليس فيه شيء،ويصبح الناس يتبايعون ولا يكاد أحد يؤدي الأمانة، فيقال: إن في بني فلان رجلا أمينا، ويقال للرجل: ما أعقله وما أظرفه وما أجلده وما في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دو خبریں بتائیں ۱؎جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی اور دوسری کا منتظر ہوں۲؎ہم کو خبر دی کہ امانت لوگوں کے دلوں کے اصل میں اتر ی ہے۳؎پھر لوگوں نے قرآن سیکھا پھر حدیث سیکھی۴؎اور حضور نے ہم کو اس کے اٹھ جانے کی خبر دی ۵؎فرمایا آدمی ایک نیند سوئے گا تو اس کے دل سے امانت قبض کرلی جاوے گی۶؎تو اس کا اثر چھالے کی طرح رہ جاتا ہے ۷؎پھر ایک نیند سوئے گا تو امانت قبض کرلی جاوے گی حتی کہ اس کا اثر آبلے کی طرح ہوجاوے گا۸؎جیسے تم اپنے پاؤں پر چنگاری لگاؤ تو ابھار ہو جاوے تم اسے پھولا ہوا دیکھو جس میں کچھ بھی نہ ہو ۹؎لوگ خریدو فروخت کریں گے اور کوئی بھی امانت ادا نہ کرے گا۱۰؎حتی کہ کہا جاوے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک امانت دار شخص ہے ۱۱؎اور کسی شخص کے متعلق کہا جاوے کہ وہ کیسا عقلمند ہے کیسا خوش طبع ہے کیسا بہادر ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کی برابر ایمان نہ ہوگا ۱۲؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی فتنوں کے زمانوں میں امانت کے متعلق دو خبریں دی لہذا یہ حدیثکتاب الفتنکے مناسب ہے۔
۲؎حضور انور نے نزول امانت کی بھی خبر دی اور اس امانت کے اٹھ جانے کی بھی دی،میں نے امانت کا نزول تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اس کے اٹھ جانے کا منتظر ہوں نہ معلوم یہ واقعہ میری زندگی میں ہو یا میرے بعد۔
۳؎امانت سے مراد یا تو ایمان ہے یا شرعی احکام،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ"۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد دیانتداری ہو خیانت کی مقابل۔
۴؎اس سے معلوم ہوا کہ دلوں میں توفیق خیر پہلے ہوتی ہے،قرآن و حدیث کا سیکھنا عمل کرنا بعد میں میسر ہوتا ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم نے دیکھ لیں۔
۵؎یعنی آخر زمانہ میں روشنی ایمان دلوں سے نکل جاوے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ قرآن و سنت پڑھنا ان پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے۔
۶؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں سونے سے مراد علم دین سے غفلت کرنا ہے اورنومۃسے مراد معمولی غفلت ہے اس لیے کہ اس سے پہلے قرآن و سنت کے علم کا ذکر ہوا یعنی لوگ علم دین سے معمولی غفلت کریں گے تو اس کا نتیجہ وہ ہوگا جو یہاں مذکور ہے۔(اشعہ)اور ہوسکتا ہے کہنومسے مراد سونا ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے انقلاب کا حال یہ ہوگا کہ ابھی سونے سے پہلے دل کا اور حال تھا اور سوتے ہی کچھ اور ہوگیا۔(مرقات)
۷؎وکتواؤ کے فتحہ کاف کے سکون سے جمع ہےوکتۃکی بمعنی نقطہ سفید جو آنکھ کی سیاہ پتلی میں ہو،چھوٹے چھالے یا چھوٹے تل کو بھیوکتکہتے ہیں خواہ کالا تل ہو یا سرخ یعنی امین آدمی کے دل سے امانت ختم ہوجاوے گی مگر کچھ اثر باقی رہے گا۔
۸؎مجلمیم کے فتح جیم کے سکون سے،آبلہ چھالا جو زیادہ کام کرنے سے ہاتھوں میں پڑ جاتا ہے،کھال سخت ہوجاتی ہے یعنی لوگوں کے دلوں سے امانت آہستہ آہستہ اٹھے گی،ایک بار غفلت میں امانت جائے گی دل میں خیانت آوے گی مگر معمولی جیسے چھالا دوبارہ غفلت میں یہ خیانت دل میں سخت ہوجاوے گی جیسے کام کرنے والوں کے ہاتھ کے سخت دہٹے آبلے۔
۹؎یہ مضمون علیحدہ ہے یعنی اگر کسی کا عضو معمولی چنگاری سے جل جاوے وہاں چھالا پڑ جاوے تو چھالا ابھرا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر اس میں سواء گندے پانی کے ہوتا کچھ نہیں،یوں ہی اس زمانہ کے لوگ لباس و شکل میں بہت اچھے دکھائی دیں گے مگر انکی دلوں میں خیر نہ ہوگی برائی ہی ہوگی۔
۱۰؎یعنی وہ لوگ آپس میں خرید و فروخت اور دوسرے مالی معاملات کریں گے مگر امین نہ ہوں گے،تجارتوں میں خیانت ملاوٹ سب ہی کچھ کریں گے اپنی زبان پر قائم نہ رہیں گے۔۱۱؎یعنی امین آدمیوں کی اتنی کمی ہوجاوے گی کہ اگر کسی شہر کسی قبیلہ میں کوئی ایک امین ہوگا تو لوگ دور دور اس کا چرچہ کریں گے کہ اس علاقہ میں صرف وہ شخص امین ہے۔
۱۲؎یعنی آخر زمانہ میں لوگوں کی چالاکی دنیاکمانا چست و چالاکی ہونے کی تو تعریف ہوگی مگر اس کے دین تقویٰ امانت کا ذکر بھی نہ کیا جاوے گا،وہ ہوگا بے ایمان خائن جیساکہ آج کل عام چودھریوں نمبرداروں دنیا داروں میں دیکھا جاتا ہے، ہاں بعض الله کے مقبول بھی ہوتے ہیں مگر تھوڑے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5381