Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5389

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ، وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، وَيُلْقَى الشُّحُّ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ"، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ: "الْقَتْلُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يتقارب الزمان، ويقبض العلم، وتظهر الفتن، ويلقى الشح، ويكثر الهرج"، قالوا: وما الهرج؟ قال: "القتل". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے زمانہ چھوٹا ہوجاوے گا ۱؎اور علم اٹھالیا جاوے گا ۲؎اور فتنے ظاہر ہوجائیں گی اور بخل ڈال دیا جاوے گا۳؎ہرج بڑھ جاوے گا،لوگوں نے عرض کیا ہرج کیا ہے فرمایا قتل ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یتقارببنا ہےقربسے بمعنی نزدیکی،اس عبارت کے بہت معنی کیے گئے۔مشہور معنی یہ ہیں کہ زمانہ کے اجزاء دن رات،گھنٹہ منٹ،ہفتہ مہینہ سال ایک دوسرے سے گزرنے میں قریب ہوجائیں گے کہ بہت جلد جلد گزرنے لگیں گے۔اسی کی شرح وہ حدیث ہے کہ قرب قیامت سال ایک مہینہ کی طرح،مہینہ ہفتہ کی طرح،ہفتہ دن کی طرح،دن آگ سلگانے کی طرح گزریں گے یا یہ معنی ہیں کہ زمانہ قیامت کے نزدیک ہوجاوے گا یا یہ کہ زمانہ والےلوگ ایک دوسرے سے جنگ و جدال کے لیے گتھ جائیں گے قریب تر ہوجائیں گے یا سارے اوقات شروفساد میں ایک دوسرے سے قریب ویکساں ہوجائیں گے۔
۲
؎علمسے مراد علم دین ہے۔علم دین کے اٹھ جانے سے مراد یہ ہے کہ علماء دین وفات پاتے رہیں گے اور بعد کے لوگ عالم بننا چھوڑ دیں گے کیونکہ علم دین کی قدر نہ قوم میں رہے گی نہ حکومت میں جیساکہ آج کل دیکھا جارہا ہے کہ اب علماء بھی واعظ یا پیر بن کر گزارہ کررہے ہیں صرف علماء کے لیے کوئی ذریعہ نہیں۔انگریزی بی اے کرلو تو تمام دروازے کھل جاتے ہیں،عالم دین بنو تو حکومت کاکوئی محکمہ تمہیں نہیں لیتا تم پر حکومت کے سارے دروازے بند ہیں، دین کا الله تعالٰی ہی حافظ ہے،دین رسولی باغ ہے علم دین اس کا پانی جب پانی نہ دیا جائے تو باغ کا کیا ہوگا۔
۳
؎یعنی لوگ کنجوس ہوجائیں گے،علماء علم سکھانے میں بخل کریں گے،کاریگر اپنا ہنر سکھانے میں،مالدار لوگ اپنا مال خرچ کرنے میں بخیل ہوجائیں گے۔یلقیفرماکر بتایا گیا کہ یہ بخل شیطان دلوں میں ڈالے گا لوگوں کو بخل کے فائدے،سخاوت کے نقصانات ذہن نشین کردے گا۔ھرجکے لغوی معنی فتنہ ہے،یہاں خاص فتنہ یعنی قتل و خون مراد ہے۔حرج بڑی حاء سے بمعنی تنگی ہے"لَیۡسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5389