Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5408

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- لَمَّا خَرَجَ إِلَى غَزْوَةِ حُنَيْنٍ مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ كَانُوا يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "سُبْحَانَ اللَّهِ! هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قبلكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

عن أبي واقد الليثي: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لما خرج إلى غزوة حنين مر بشجرة للمشركين كانوا يعلقون عليها أسلحتهم يقال لها: ذات أنواط. فقالوا: يا رسول الله! اجعل لنا ذات أنواط كما لهم ذات أنواط، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "سبحان الله! هذا كما قال قوم موسى: اجعل لنا إلها كما لهم آلهة، والذي نفسي بيده لتركبن سنن من كان قبلكم". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو واقد لیثی سے ۱∞؎کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم جب غزوہ حنین کی طرف تشریف لے گئے ۲؎تو مشرکوں کے ایک درخت پرگزرے جس پر وہ اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے اسے ذات انواط کہا جاتا تھا ۳؎تو لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہمارے لیے بھی کوئی ذات انواط مقرر فرمادیجئے۴؎جیسے ان کا ذات انواط ہے تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایاسبحان اﷲ۵؎یہ تو ایسا ہی ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ ہمارے لیے کوئی معبود مقرر کردو جیسے ان کے معبود ہیں ۶؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم لوگ اپنے سے پہلے والوں کی راہ چلو گے ۷؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام حارث ابن عوف ہے،قدیم الاسلام ہیں،غزوہ بدر میں شریک ہوئے،وفات سے ایک سال پہلے مکہ معظمہ میں مقیم ہوگئے وہاں ہی وفات پائی،مقام طبح میں دفن ہوئے۔(مرقات)۲؎حنین ایک وسیع میدان ہے جو مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ہے۔یہ غزوہ فتح مکہ کے بعد ہوا،اس غزوہ میں بہت سے نو مسلم شریک تھے جو فتح مکہ میں ایمان لائے تھے ابھی ان کے دلوں میں ایمان پختہ نہ ہوا اور اسلام سے پورے واقف نہ تھے اس لیے اگلا واقعہ پیش آیا۔۳؎انواطجمع ہےنوطکی بمعنی لٹکانا آویختہ کرنا۔ذاتمؤنث ہےذوکا بمعنی والا،چونکہ اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکا کر اس کی پرستش کرتے تھے اس لیے اسےذات انواطکہتے تھے یعنی تعلیق والا درخت۔مشرکین مختلف طرح بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔۴؎یہ عرض کرنے والے وہ ہی فتح مکہ کے بعض نو مسلم تھے جو ابھی تک عقائد اسلامیہ سے پورے پورے واقف نہ تھے، وہ سمجھے ہی نہیں کہ یہ ہتھیار لٹکانا بھی پرستش ہے اور ہر پرستش شرک ہے خواہ کسی طرح کی ہو لہذا حدیث پر روافض کا کوئی اعتراض نہیں۔۵؎یہسبحان اللهفرمانا اظہار تعجب کے لیے ہے کہ تم مسلمان ہوکر ایسی بات کرتے ہو ایسے مطالبے تمہارے لیے موزوں نہیں۔خیال رہے کہ ان لوگوں کا یہ عرض کرنا شرک نہ تھا کہ یہ بے خبری سے تھا اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دوبارہ ایمان لانے کا حکم نہ دیا،اگر ان کی نیت شرک کرنے کی ہوتی تو حضور سے کیوں عرض کرتے خود ہی یہ کام شروع کردیتے۔۶؎یعنی ضعیف مؤمنوں کے ایسے غلط مطالبے آج نئے نہیں ہیں بعض مؤمنین بنی اسرائیل نے بھی موسیٰ علیہ السلام سے اس سے بدتر مطالبے کیے تھے انہوں نے صاف صاف کہا تھا کہ ہمارے لیے اکے سوا دوسرے معبود مقرر کردیجئے۔۷؎بعض روایات میں ہے کہ میری امت پر ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ وہ اسرائیلیوں کے نقش قدم پر چلیں گے حتی کہ اگر کسی اسرائیلی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہوگا تو میری امت کے بعض لوگ ایسا کریں گے،اگر کوئی اسرائیلی گوہ کے سوراخ میں گھسا ہوگا تو یہ بھی ایسا ہی کریں گے آج اس کا مشاہدہ ہورہا ہے۔انگریزوں نے کھڑے کھڑے کھانا،موتنا شروع کردیا تو مسلمان بھی ایسا ہی کرنے لگے،خدا کرے انگریز ناک کٹانے لگیں تو دیکھنا ہزاروں مسلمانوں کی ناکیں کٹ جائیں گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5408