Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5406

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهَا إِلَى يَوْمٍ الْقِيَامَةِ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ، وَحَتَّى تعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الأَوْثَانَ، وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيين لَا نَبِيَّ بِعْدِي، وَلَا تَزَالُ طَائِفَة مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن ثوبان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إذا وضع السيف في أمتي لم يرفع عنها إلى يوم القيامة، ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين، وحتى تعبد قبائل من أمتي الأوثان، وإنه سيكون في أمتي كذابون ثلاثون، كلهم يزعم أنه نبي الله، وأنا خاتم النبيين لا نبي بعدي، ولا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله". رواه أبو داود والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جب میری امت میں تلوار رکھ دی جاوے تو قیامت کے دن تک اس سے نہ اٹھے گی ۱؎اور قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں گے ۲؎اور حتی کہ میری امت کے کچھ قبیلے بت پرستی کریں گے ۳؎اور میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے وہ سب گمان کریں گے کہ وہ الله کے نبی ہیں ۴؎حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ۵؎اور میری امت کا ایک گروہ حق پر رہے گا سب پر غالب ان کا مخالف انہیں نقصان نہ پہنچاسکے گا ۶؎حتی کہ اکا حکم آجاوے ۷؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎اسی حدیث کا ظہور ہورہا ہے۔شہادت عثمان غنی سے مسلمانوں میں آپس میں قتل و خون شروع ہوا ہے آج تک ہو رہا ہے،ہمیشہ کہیں نہ کہیں مسلمان آپس میں لڑتے ہی رہتے ہیں ان کا قتل و خون بند نہیں ہوتا۔
۲
؎یہ واقعہ بھی ہوچکا بلکہ ہوتا رہتا ہے۔ہم نے اپنی زندگی میں آگرہ کے ضلع میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں مرتد ہوتے دیکھ لیے جسے شدھی کا فتنہ کہا جاتا ہے۔
۳
؎اس کی صورت یہ ہے کہ بعض لوگ اپنے کو مسلمان سمجھتے ہوئے بت پرستی کریں گے لہذا یہ جملہ مکرر نہیں۔ہم نے دیکھا کہ بعض لوگ اپنے پیروں کے فوٹووں کو سجدہ کرتے ہیں،انہیں چومتے،انہیں سجا کر رکھتے ہیں یہ ہے اس حدیث کا ظہور پیروں کے ان فوٹووں کو وہ لوگ کہتے ہیں مرقع شریف،یہ ان کا خاص لفظ ہے،بعض کلمہ گو تعزیہ کو سجدہ کرتے دیکھے گئے،قبروں کو تو بہت لوگ سجدے کرتے ہیں،بعض زندہ پیروں کو سجدے کرتے ہیں،یہ ہے بت پرستی۔نعوذ بالله !۴؎یہ تیس جھوٹے نبی وہ ہیں جنہیں لوگوں نے نبی مان لیا اور ان کا فساد پھیل گیا،دوسرے قسم کے مدعی نبوت جنہیں کسی نے نہ مانا وہ بکواس کرکے مر گئے وہ تو بہت ہیں۔دیکھو ہمارے ملک میں مرزا غلام احمد قادیانی مدعی نبوت کا فتنہ بہت پھیلا اس کے علاوہ ہم نے بہت سے مدعی نبوت دیکھے جن کی طرف کسی نے توجہ ہی نہ دی اپنے کو نبی کہتے کہتے مرگئے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اب تک جھوٹے مدعی نبوت سو۱۰۰ سے زیادہ ہوچکے۔
۵
؎معلوم ہوا کہ خاتم النبیین کے معنی ہیں آخری نبی کہ اس کے زمانہ میں اور اس کے بعد کوئی نبی نہ بنے۔اس معنی پر امت کا اجتماع ہے جو کہے اس کے معنی آخری نبی نہیں بلکہ اصلی نبی ہیں وہ کافر ہیں کہ وہ قرآنی آیت کے متواتر اجماعی معنی کا انکار کرتا ہے۔
۶
؎اس فرمان عالی میں دو غیبی خبریں ہیں: ایک یہ کہ دوسری امتوں کی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری امت گمراہ نہ ہوگی تاقیامت اس میں ایک جماعت سب پر غالب رہے گی کہ دینی غلبہ ہمیشہ اسی کو حاصل رہے۔الحمد للہ اہلسنت و الجماعت سب فرقوں پر غالب ہیں۔ خیال رہے کہ حنفی،شافعی،مالکی،حنبلی،یوں ہی قادری،چشتی،نقشبندی،سہروردی ایک ہی جماعت ہے یعنی اہلسنت والجماعت آج ایک نہیں عالم سوجو بے دین عالموں پر غالب رہتا ہے یہ ہے اس حدیث کا ظہور۔
۷
؎الله کے حکم سے مراد حضرت عیسیٰ و امام مہدی کا ظہور ہے جب اسلام کا پورا غلبہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5406