Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5403

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَذَكَرَ الْفِتَنَ، فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الأَحْلَاسِ، قَالَ قَائِلٌ: وَمَا فِتْنَةُ الأَحْلَاسِ؟قَالَ: "هِيَ هَرَبٌ وَحَرَبٌ، ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي، إِنَّمَا أَوْلِيَائِي الْمُتَّقُونَ، ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلْعٍ،ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ، لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً، فَإِذَا قِيلَ: انْقَضَتْ تَمَادَتْ، يُصْبحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ: فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ، وفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ یَوْمِہٖ أَوْ مِنْ غَدِهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن عبد الله بن عمر قال: كنا قعودا عند النبي -صلى الله عليه وسلم- فذكر الفتن، فأكثر في ذكرها حتى ذكر فتنة الأحلاس، قال قائل: وما فتنة الأحلاس؟قال: "هي هرب وحرب، ثم فتنة السراء دخنها من تحت قدمي رجل من أهل بيتي، يزعم أنه مني وليس مني، إنما أوليائي المتقون، ثم يصطلح الناس على رجل كورك على ضلع،ثم فتنة الدهيماء، لا تدع أحدا من هذه الأمة إلا لطمته لطمة، فإذا قيل: انقضت تمادت، يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا، حتى يصير الناس إلى فسطاطين: فسطاط إيمان لا نفاق فيه، وفسطاط نفاق لا إيمان فيه، فإذا كان ذلك فانتظروا الدجال من یومہ أو من غده". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس بیٹھے تھے حضور نے فتنوں کا ذکر فرمایا تو بہت زیادہ ذکر کیا ۱؎حتی کہ ٹاٹ کے فتنہ کا ذکر فرمایا ۲؎کسی کہنے والے نے عرض کیا کہ فتنہ احلاس کیا چیز ہے فرمایا وہ بھاگڑا اور لڑائی ہے۳؎پھر سراء کے فتنہ کا ذکر کیا ۴؎جن کافساد ۵؎میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کے قدموں کے نیچے سے ہوگا۶؎وہ سمجھے گا کہ وہ مجھ سے ہے وہ مجھ سے نہیں میرے دوست صرف متقی ہیں ۷؎پھر لوگ ایسے ایک آدمی پر صلح کریں گے جو پسلی پر گوشت کی طرح ہوگا ۸؎پھر کالا فتنہ ہوگا ۹؎جو اس امت میں کسی کو نہ چھوڑے گا مگر اسے طمانچہ لگادے گا۱۰؎پھر جب کہا جاوے گا کہ فتنہ ختم ہوگیا تو وہ اور پھیلے گا ۱۱؎اس میں آدمی صبح کرے گا مؤمن ہوکر اور شام کرے گا کافر ہوکر حتی کہ لوگ دو خیموں کی طرف لوٹ جائیں گے،ایک خیمہ ایمان کا جس میں نفاق نہیں اور دوسرا خیمہ نفاق کا جس میں ایمان نہیں۱۲؎تو جب یہ ہوجاوے تو اس دن یا اس کے اگلے دن دجال کے خروج کا انتظار کرو۱۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بہت سے فتنوں کا ذکر فرمایا یا فتنوں کا بہت ذکر فرمایا کہ ہر فتنہ کی تفصیل بیان فرمائی ہر ایک کا واضح بیان کردیا۔
۲
؎احلاسجمع ہےحلسکی،حلسوہ ٹاٹ ہے جو زمین پر نفیس دریوں غالیچوں کے نیچے بچھایا جاتا ہے اوپر کے بستر بدلتے رہتے ہیں مگر وہ ٹاٹ وہاں ایک ہی جگہ پڑا رہتا ہے اس فتنہ کو یا تواحلاساس لیے فرمایا کہ وہ فتنہ بہت عرصہ تک رہے گا ٹاٹ کی طرح ہوگا کہ ہٹے گا نہیں اس لیے فرمایا کہ اس زمانہ میں لوگوں کو ٹاٹ کی طرح اپنے گھروں میں رہنا مفید ہوگا جو باہر پھرے گا مبتلا ہوجاوے گا۔
۳
؎اس فتنہ میں لوگ ایک دوسرے سے بھاگیں گے کوئی کسی کی بات نہ سنے گا،ہر ایک دوسرے سے لڑے گا،اسے لوٹے گا،لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں گے۔
۴
؎سراءکے لفظی معنی ہیں عیش و عشرت،مال کی زیادتی،چونکہ مسلمانوں میں یہ فتنہ ان کی زیادہ مالداری زیادہ عیش و عشرت کی وجہ سے ہوگا۔زیادتی مال ہزار ہا فتنوں کا سبب ہے اس لیے اسے فتنہ سراء فرمایا گیا یعنی عیش و مال کا فتنہ۔
۵
؎دخنکے لفظی معنی ہیں دھواں،یہاں مراد فتنہ کی ابتداء ہے اس کا فساد ہے کہ دھواں آگ کی ابتداء ہوتا ہے ایسے ہی یہ اس فتنہ کی ابتداء ہوگی۔
۶
؎یعنی اس فتنہ کی ابتداء ایک شخص سے ہوگی جو اولاد فاطمہ سے ہوگا یعنی سید ہوگا یا حاکم ہوگا یا حکومت کا طلبگار اپنے خاص نفعے کے لیے لوگوں کو مصیبت میں ڈال دے گا ،چونکہ لوگ سید ہونے کی وجہ سے اس کا ادب واحترام کرتے ہوں گے اس لیے وہ اپنے اس دینی احترام سے غلط فائدہ اٹھاکر یہ فتنہ پھیلائے گا۔
۷
؎یعنی وہ شخص اپنی ان حرکتوں کے باوجود اپنے کو سید ہی کہے گا اور سمجھے گا کہ میں حضور صلی الله علیہ و سلم کا پیارا ہوں کیونکہ ان کی اولاد سے ہوں۔یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا ابھی واقع نہیں ہوا۔خوارج اس حدیث کو حضرت علی رضی الله عنہ پرچسپاں کرتے ہیں کہ حضرت علی کی خلافت میں یہ فتنہ واقع ہوچکا مگر یہ ان کی اہل بیت دشمنی ہے ان سرکار کو اس سے کوئی تعلق نہیں،اگلے واقعات بھی جو یہاں مذکور ہیں اس کے خلاف ہیں۔
۸
؎وركواؤ کے فتحہ ر کے کسرہ سے بمعنی چوتڑ(سیرین)۔ضلعض کے کسرہ لام کے فتحہ سے پسلی کی ہڈی یعنی جیسے چوتڑ کی گندگی اگر پسلی کی ہڈی پر ہو تو ٹھہرتا نہیں کمزور ہوتا ہے ایسے ہی اس بادشاہ کی حکومت قائم نہ ہوگی بہت کمزور ہوگی۔خلاصہ یہ ہے کہ لوگ اس فتنے سے بچنے کے لیے ایسے شخص کو اپنا بادشاہ مقرر کردیں گے جس کی بادشاہت میں قوت نہ ہوگی،امیر المؤمنین علی رضی الله عنہ کی حکومت میں یہ کب ہوا۔
۹
؎دھیمامؤنث ہےدھیمسے جس کا مادمدھمہے بمعنی سخت سیاہ اندھیرا یعنی ایسا اندھیر والا فتنہ ہوگا کہ لوگوں کو اس میں راستہ نظر نہ آوے گا کہ کدھر جاویں۔بعض شارحین نے فرمایا کہدھیماءایک اونٹنی تھی جس پر آگے پیچھے سات آدمیوں نے جنگ کی جو سب مارے گئے اونٹنی خالی رہ گئی جب سے عربی میں یہ کہاوت بن گئی کہ ایسے خطرناک فتنہ کودھیماءکہنے لگے۔(مرقات)
۱۰
؎یعنی یہ فتنہ بہت روز تک رہے گا کبھی ہلکا پڑجاوے گا تو لوگ سمجھیں گے ختم ہو گیا پھر تیز ہوجاوے گا حتی کہ ختم ہوگا۔
۱۱
؎یعنی اس فتنہ سے کوئی نہ بچے گا سب پر اس کا اثر پہنچے گا کسی پر زیادہ کسی پر کم۔
۱۲
؎یعنی لوگوں کے دو گروہ ہوجائیں گے خالص مؤمن،خالص منافق یافسطاطسے مراد شہر ہیں یعنی لوگ دو شہروں میں بٹ جاویں گے۔
۱۳
؎یعنی اس فتنہ سے متصل خروج دجال ہوگا اس لیے معلوم ہوا کہ یہ فتنہ ابھی واقع نہیں ہوا قیامت کے قریب ہوگا۔وہ کون سید ہوگا جو اس فتنہ کا موجد ہوگا یہ رب جانے اور یہ واقعہ کب ہوگا اس کی تاریخ کا بھی پتہ نہیں۔ (اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5403