- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5382
باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5382
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَن الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ؛ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرِّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ، فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قُلْتُ: وَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: "نَعَمْ،وَفِيهِ دَخَنٌ"، قلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟ قَالَ: "قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي، تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ"، قُلْتُ: فَهَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ:"نَعَمْ، دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: "هُمْ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا"، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْركَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: "تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ"، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟ قَالَ: "فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: قَالَ: "يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ"، قَالَ حُذَيْفَةُ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "تَسْمَعُ وَتُطِيعُ الأَمِيرَ وَإِنْ ضَرَبَ ظَهْرَكَ وَأَخَذَ مَالَكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه قال: كان الناس يسألون رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الخير وكنت أسأله عن الشر؛ مخافة أن يدركني، قال: قلت: يا رسول الله! إنا كنا في جاهلية وشر فجاءنا الله بهذا الخير، فهل بعد هذا الخير من شر؟ قال: "نعم"، قلت: وهل بعد ذلك الشر من خير؟ قال: "نعم،وفيه دخن"، قلت: وما دخنه؟ قال: "قوم يستنون بغير سنتي، ويهدون بغير هديي، تعرف منهم وتنكر"، قلت: فهل بعد ذلك الخير من شر؟ قال:"نعم، دعاة على أبواب جهنم، من أجابهم إليها قذفوه فيها"، قلت: يا رسول الله صفهم لنا، قال: "هم من جلدتنا ويتكلمون بألسنتنا"، قلت: فما تأمرني إن أدركني ذلك؟ قال: "تلزم جماعة المسلمين وإمامهم"، قلت: فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام؟ قال: "فاعتزل تلك الفرق كلها ولو أن تعض بأصل شجرة حتى يدركك الموت وأنت على ذلك". متفق عليه.
وفي رواية لمسلم: قال: "يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي، ولا يستنون بسنتي، وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جثمان إنس"، قال حذيفة: قلت: كيف أصنع يا رسول الله إن أدركت ذلك؟ قال: "تسمع وتطيع الأمير وإن ضرب ظهرك وأخذ مالك، فاسمع وأطع". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ لوگ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں شر کے متعلق پوچھتا تھا اس خوف سے کہ مجھے وہ پہنچ جاوے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله ہم پہلے جہالت اور شر میں تھے پھر الله ہمارے پاس یہ خیر لایا ۲؎تو کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگی۳؎میں نے عرض کیا کہ کیا اس شر کے بعد خیرہوگی،فرمایا ہاں مگر اس خیر میں کدورت ہوگی۴؎میں نے عرض کیا اس کی کدورت کیا ہے،فرمایا وہ قوم جو میرے طریقے کے خلاف طریقہ اختیار کرے گی اور میری عادت کے خلاف عادت قبول کرے گی۵؎ان کی بعض باتیں اچھی پاؤ گے بعض بری،میں نے عرض کیا کہ کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی،فرمایا ہاں۶؎دوزخ کے دروازہ پر بلانے والے جو دوزخ کی طرف انکی بات مانے گا اسے دوزخ میں ڈال دیں گے۷؎میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ان کی علامات بھی بتایئے،فرمایا وہ ہمارے گروہ سے ہوں گے ہماری زبان میں کلا م کریں گے۸؎میں نے عرض کیا کہ اگر میں یہ پاؤں تو مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں،فرمایا مسلمانوں کی جماعت ان کے امام کو پکڑے رہنا ۹؎میں نے عرض کہ اگر مسلمانوں کی نہ جماعت ہو۱۰؎نہ امام فرمایا تو ان تمام فرقوں سے الگ رہنا ۱۱؎اگرچہ اس طرح ہو کہ تم کسی درخت کی جڑ دانتوں سے پکڑ لو حتی کہ تم کو اسی حالت میں موت آجائے ۱۲؎(مسلم،بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا میرے بعد ایسے پیشوا ہوں گے جو نہ تو میری سنت اختیار کریں گے نہ طریقہ پر چلیں گے ۱۳؎ان میں کچھ لوگ اٹھیں گے جن کے دل شیطانوں کے دل ہوں گے انسانی جسموں میں۱۴؎حضر ت حذیفہ نے عرض کیا یارسول الله اگر میں یہ وقت پاؤں تو کیا کروں فرمایا اپنے امیر کی سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تمہاری پیٹھ پر مارے اور تمہارا مال لے لے جب بھی سنو اور اطاعت کرو ۱۵؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی صحابہ کرام حضور صلی الله علیہ و سلم سے خیر کی باتیں بہت پوچھتے تھے جیسے نیک اعمال،دنیاوی فراخی،آئندہ فتوحات تاکہ اس پر خوشی و شکر کریں مگر میں شر کی باتیں بہت پوچھتا تھا جیسے گناہ،فتنے،مالداری کے برے نتیجے تاکہ ان سے بچنے کی کوشش کروں۔تحلیہسے پہلےتخلیہہے،لباس و زیور سے پہلے غسل ہے،پہلے برائیوں سے بچو پھر نیکیاں کرو۔
۲؎یعنی ہم اہل عرب پہلے انتہائی برائیوں میں گرفتار تھے پھر الله نے ہم کو انتہائی خیر،حضور کی نبوت،وحی،تقویٰ، طہارت ہم کو عطا فرمائی۔
۳؎یعنی کیا حضور کے پردہ فرمانے کے بعد پھر ہم برائیوں میں آفتوں میں مبتلا ہوں گے۔
۴؎یعنی اس شر کے بعد خیر آئے گی ضرور مگر خالص خیر نہ ہوگی اس میں شر کی ملاوٹ ہوگی۔دخنبنا ہےدخانسے بمعنی دھواں۔
۵؎اس فرمان عالی میں اشارہ یا تو قتل عثمان و خلافت علی کی طرف ہے کہ قتل عثمان شر ہے اور خلافت علی خیر مگر اسی خلافت میں روافض و خوارج کا زور تھا یہ کدورت ہے،یا اس میں اشارہ ہے خلافت عمر ابن عبدالعزیز کی طرف کہ وہ خیرتھی مگر اس زمانہ میں بد مذہبوں کا زور تھا۔(از اشعہ و مرقات)اس کی شرحیں اور بہت کی گئی ہیں۔
۶؎یعنی کیا اس مخلوط خیر کے بعد کوئی شر ہوگی جو خالص شر ہو اس خیر سے کہیں بدتر ہو۔
۷؎یعنی ایسے پیشوا جو لوگوں کو ہدایت کے لباس میں گمراہی دیں گے،خیر دکھاکر شر پھیلائیں گے،سنت ظاہر کرکے بدعت پیش کریں گے،زہد ظاہرکرکے عیاشی کریں گے جو ان کی مانے گا وہ دوزخ میں جائے گا گویا یہ لوگ دوزخ میں بھیجنے کا سبب ہوں گے،یہ نسبت سبب کی طرف ہے۔
۸؎یعنی کلمہ گو اور مدعی اسلام ہوں گے،عرب ہوں گے،عربی بولیں گے اس لیے لوگ ان سے بہت دھوکا کھایا کریں گے کیونکہ چھپے کافر سے بچنا بہت مشکل ہے۔روافض،خوارج،وہابیت،نجدیت وغیرہ سب عرب سے ہی پیدا ہوئیں۔
۹؎یعنی وہ عقیدے رکھنا جو مسلمانوں کی جماعت کے ہوں،سلطان اسلام کی حمایت کرنا جو تم کو اﷲرسول کے راستہ پر چلائے،ان تمام فرقوں سے الگ رہنا،جماعت مسلمین کے ساتھ رہنا فتنوں سے بچنے کا قوی ذریعہ ہے۔اہل سنت و الجماعت کے ساتھ رہو،تیرہ سو برس سے مسلمانوں کے جو عقائد چلے آرہے ہیں انہیں پر قائم رہو۔مثلًا آج ایک فرقہ کہتا ہے کہخاتم النبیینکے معنی آخری نبی نہیں یا صلوۃ کے معنی یہ مروجہ نمازیں نہیں،حضور کے بعد اور نبی آسکتے ہیں،نمازیں دن رات میں صرف دو ہیں وہ بھی اسلامی نماز سے جدا گانہ،ہم دیکھیں گے کہ آج تک نماز کے متعلق مسلمانوں کے کیا عقیدے رہے ہیں وہی اختیار کریں یہ ایمان کی ڈھال ہے۔
۱۰؎یعنی اگر ا یسا زمانہ آجاوے کہ مسلمانوں کا نہ کوئی بادشاہ ہو نہ وہ کسی کی امامت پر متفق ہوں تو میں کیا کروں۔
۱۱؎یعنی اس صورت میں ان فرقوں میں سے کسی کے ساتھ نہ رہنا عقائد اہل سنت کے اختیار کرنا،اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو تو اس جماعت کے عقائد تو محفوظ ہوں گے وہ اختیار کرنا،یہ بھی قاعدہ کلیہ ہے۔
۱۲؎اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں مسلمانوں کو بستی میں رہنا بہتر ہے تاکہ وہاں نماز باجماعت ادا کرسکے،وقت پر جہاد کرسکے،جمعہ وعیدین میں شرکت کرسکے،بہت سی عبادات جماعت پر موقوف ہیں مگر جب بستیوں میں فتنے زیادہ ہوجاویں تب عزلت وگوشہ نشینی بلکہ آبادیوں کا چھوڑ دینا بہتر ہے تاکہ ایمان سلامت رہے،لوگوں سے امان میں رہے،یہ حدیث ایسے ہی نازک حالات کے متعلق ہے۔درخت کی جڑ پکڑ لینے سے مراد بالکل خلوت و تنہا مقام پر چلا جانا ہے جہاں بستی کافتنہ نہ پہنچے۔
۱۳؎ظاہر یہ ہے کہ آئمہ سے مراد سلاطین ہیں اور مطلب یہ ہے کہ بدعقیدہ بدعمل بادشاہ مسلط ہوجاویں گے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بدعمل بدمذہب پیروعلماء ہوں جیسے آج کل دیکھنے میں آرہے ہیں۔بھنگی چرسی،گانے باجے کے دلدادہ،بے نماز،بے روزہ مگر کہلاتے ہیں ولی،یہ ولی الله نہیں بلکہ ولی شیطان ہیں جیسے آج کل دیکھنے میں آرہے ہیں، اس مخبر صادق صلی الله علیہ و سلم نے ان سب کی خبر دی ہے۔
۱۴؎یعنی یہ لوگ انسانی جسم میں شیطان ہوں گے،باتیں اچھی کریں گے،علم سے بے بہرہ،عمل کے خراب ہوں گے،ان سے علیحدگی ضروری ہے۔
۱۵؎یعنی ظالم بادشاہ اسلام کے ظلم کی وجہ سے بغاوت نہ کرو کہ بغاوت سے ملک میں فساد ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظالم بادشاہ دین بگاڑنے کی کوشش نہ کرے۔اسی فرمان عالی کے مدنظر حضرات صحابہ کرام نے بدترین ظالم حکام و سلاطین اسلام پر بغاوت نہ کی جیسے حجاج ابن یوسف وغیرہ ہر جائز بات میں ان کی اطاعت کی ۔خیال رہےکہ امام حسین نے یزید کو سلطان اسلام مانا نہیں کہ وہ اس کا اہل نہ تھا،نااہل کو بادشاہ بنانا ممنوع ہے مگر جب بادشاہ بن چکا ہو تو اس کی بغاوت ممنوع ہے لہذا حضرت حسین کا عمل اس حدیث کے خلاف نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5382