Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5390

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَأْتِيَ علی الناس يَوْمٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ؟ وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ؟ " فَقِيلَ: كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "الْهَرْجُ، الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يأتي علی الناس يوم لا يدري القاتل فيم قتل؟ ولا المقتول فيم قتل؟ " فقيل: كيف يكون ذلك؟ قال: "الهرج، القاتل والمقتول في النار". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے دنیا نہ جائے گی حتی کہ لوگوں پر وہ دن آجائے گا جب قاتل نہ جانے گا کہ کس جرم میں قتل کیا اور نہ مقتول جانے گا کہ وہ کس جرم میں قتل کیا گیا ۱؎عرض کیا گیا یہ کیسے ہوگا فرمایا فتنہ عامہ کی وجہ سے۲؎قاتل مقتول دونوں دوزخ میں جائیں گے۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کا ظہور آج پورے طور سے ہورہا ہے۔بات بات پر مکھی،مچھر،کھٹمل کی طرح انسان قتل کرائے جارہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ قاتلوں کو سزا نہیں ملتی تو مقتول کے وارثین ایک کے عوض دو تین کو مار دیتے ہیں پھر وہ لوگ دو کے عوض تین چار کو،اگر عدالتوں سے سزا پوری پوری ملے تو جرموں کی جڑ کٹ جاوے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ۲؎یعنی لوگوں میں لاقانونیت،طبیعتوں میں بربریت پیدا ہوجاوے گی،شرافت انسانی لوگ کھو چکیں گے،اس حدیث کی زندہ شرح یہ زمانہ ہے۔
۳
؎قاتل تو قتل کی وجہ سے دوزخ میں جاوے گا اور مقتول ارادۂ قتل کی وجہ سے کہ وہ بھی اسی ارادہ سے آیا تھا اس کا داؤ نہ چلایا وار خالی گیا۔معلوم ہوا کہ گناہ کا پختہ ارادہ بھی گناہ،الله تعالٰی گناہ اور ارادۂ گناہ دونوں سے بچائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5390