Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5404

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، أَفْلَحَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "ويل للعرب من شر قد اقترب، أفلح من كف يده". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا خرابی ہے عرب کے لیے ۱؎اس شر سے جو قریب آ گئی وہ شخص کامیاب رہے گا جو اپنا ہاتھ روکے۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ویلکے معنی ہیں خرابی شر قریب،دوزخ کے ایک طبقہ کا نام ہلاکت،یہاں بمعنی خرابی ہے۔(مرقات)
۲
؎یعنی اس زمانہ میں جو جنگ و قتال میں حصہ نہ لے وہ کامیاب ہے۔اس شر سے مراد یا تو یاجوج ماجوج کا نکلنا ہے اس وقت ان سے مقابلہ کی طاقت نہ ہوگی اس لیے قتال سے بچنے والا کامیاب رہے گا یا اس شر سے مراد مسلمانوں کی آپس کی جنگیں ہیں جو حضرت عثمان کی شہادت سے شروع ہوئیں اورجنگ جمل و صفین و معرکہ کربلا کی شکل میں ظاہر ہوئی ہیں تب یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جسے حق وباطل کا پتہ نہ لگے وہ اس میں قتال سے بچے۔ (از مرقات) اسی لیے جنگ جمل وصفین میں حضرت صحابہ کرام کے تین گروہ ہوگئے: بعض حضرات علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے،بعض ان کے مقابل،بعض حضرات غیر جانب دار۔یہ وہ ہی حضرات تھے جنہیں پتہ نہ لگا کہ حق پر کون ہے لہذا تینوں جماعتیں الله کی مقبول ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5404