- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5399
باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5399
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّ بَيْنَ يَدَي السَّاعَةِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَكَسِّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ،وَقَطِّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا سُيُوفَكُمْ بِالْحِجَارَةِ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدٍ مِنْكُمْ فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَفِي رِوَايَة لَهُ: ذَكَرَ إِلَى قَوْلِهِ: "خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي"، ثُمَّ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: "كُونُوا أَحْلَاسَ بُيُوتِكُمْ".
وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ فِي الْفِتْنَةِ: "كَسِّرُوا فِيهَا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا فِيهَا أَوْتَارَكُمْ، وَالْزَمُوا فِيهَا أَجْوَافَ بُيُوتِكُمْ، وَكُونُوا كَابْنِ آدَمَ". وَقَالَ: هَذَا حديثٌ صحيحٌ غريبٌ.
وعن أبي موسى عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: "إن بين يدي الساعة فتنا كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا، ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا، القاعد فيها خير من القائم، والماشي فيها خير من الساعي، فكسروا فيها قسيكم،وقطعوا فيها أوتاركم، واضربوا سيوفكم بالحجارة، فإن دخل على أحد منكم فليكن كخير ابني آدم". رواه أبو داود.
وفي رواية له: ذكر إلى قوله: "خير من الساعي"، ثم قالوا: فما تأمرنا؟ قال: "كونوا أحلاس بيوتكم".
وفي رواية الترمذي: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال في الفتنة: "كسروا فيها قسيكم، وقطعوا فيها أوتاركم، والزموا فيها أجواف بيوتكم، وكونوا كابن آدم". وقال: هذا حديث صحيح غريب.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا قیامت کے آگے بہت فتنے ہیں اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ۱؎ان میں آدمی صبح کو مؤمن ہو گا اور شام کو کافر اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح سویرے کو کافر ۲؎ان میں بیٹھ رہنے والا کھڑے سے بہتر ہوگا اور ان میں چلنے والے دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۳؎تو ان فتنوں میں اپنی کمانیں توڑ دو اپنی تانت کاٹ دو اور اپنی تلوار پتھر سے مار دو۴؎پھر اگر تم میں سے کسی پر گھسا جاوے تو وہ حضرت آدم کے بہترین بیٹے(ہابیل)کی طرح ہوجاوے ۵؎(ابوداؤد)اور اسی کی ایک روایت میںخیر من الساعیتک کا ذکر فرمایا،پھر لوگوں نے عرض کیا کہ تب ہم کو حضور کیا حکم دیتے ہیں فرمایا اپنے گھروں کے ٹاٹ بن جانا ۶؎اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فتنہ کے متعلق فرمایا کہ اس میں اپنی کمانیں توڑ دینا اور اس میں اپنی تانت کانٹ دینا ۷؎اور اس میں اپنے گھروں کا اندرونی حصہ پکڑ لینا ہے۸؎اور حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجانا ۹؎اور کہا یہ حدیث صحیح ہے غریب ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎یعنی جیسے اندھیری رات میں کچھ سوجھتا نہیں یوں ہی ان فتنوں میں کچھ سوجھے گا نہیں،حق کیا ہے اور باطل کیا عجیب افراتفری کا زمانہ ہوگا۔
۲؎ظاہر یہ ہے کہ صبح شام سے مراد قریبی اوقات ہیں،بعض لوگ ایسے مذبذب ہوجائیں گے کہ ابھی مؤمن ابھی کافر۔(مرقات)لوگوں کو ایمان کی پرواہ نہ رہے گی۔
۳؎یہاں بیٹھنے والے سے مراد ہے ان فتنوں سے بے تعلق رہنے والا،چلنے والے سے مراد ہے معمولی تعلق رکھنے والا اور دوڑنے والے سے مراد ہے بہت مشغول اور فتنوں میں مبتلا،ظاہری بیٹھنا چلنا دوڑنا مراد نہیں،اس کی مفصل شرح پہلےگزرچکی۔
۴؎یعنی اس زمانہ میں اپنے جنگی ہتھیار بے کار کردو تاکہ تم جنگ کے قابل نہ رہو کیونکہ اس وقت دونوں طرف مسلمان ہوں گے جس کو مارو گے مسلمان کو مارو گے لہذا اپنے کو مارنے کے قابل ہی نہ رکھو اسی میں بھلائی ہے۔
۵؎یعنی اگر اس علیحدگی اور خلوت نشینی کے باوجود کوئی ظالم خونخوار خواہ مخواہ تمہارے گھر میں گھس کر تم پر حملہ کرے تو تم جوابی کاروائی نہ کرو قتل ہوجاؤ مگر مقابلہ نہ کرو۔اس حدیث کی شرح حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ کی شہادت ہے اگر آپ اس وقت باغیوں کا مقابلہ کرتے تو آپ کے مملوک دو سو غلام تھے اور ہزار ہا ساتھی بڑی سخت جنگ ہوتی اور زمین مدینہ خون سے رنگین ہوجاتی۔
۶؎کہ جیسے گھر کا بچھا ہوا ٹاٹ گھر میں ہی رہتا ہے باہر نہیں جاتا تم بھی گھر میں رہنا باہر نہ جانا لوگوں سے ملنا جلنا بند کردینا،یہ مطلب نہیں کہ باجماعت نماز اور جمعہ و عیدین چھوڑ دینا۔مقصد یہ ہے کہ لوگوں سے خلط ملط چھوڑ دینا۔
۷؎یعنی جنگ کے ہتھیار ختم کردینا تاکہ تمہارے دلوں میں کبھی جنگ کا خطرہ بھی نہ پیدا ہو،جنگ کرنا تو کیا جنگ کا خیال بھی نہ کرنا کہ دو طرفہ مسلمان ہوں گے جسے مارو گے مسلمان کو مارو گے۔
۸؎یعنی گھر کے اندرونی حصہ میں خلوت و گوشہ نشینی اختیار کرنا جہاں باہر کے لوگ تمہارے پاس نہ آسکیں،گھر کی بیٹھک میں نہ بیٹھنا کہ وہاں خلوت مکمل نہیں ہوتی راہگیروں سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے،سواء نماز اور ضروریات کے باہر مت نکلنا۔
۹؎ابن آدم سے مراد ہابیل ہے جو ظلمًا مقتول ہوا،قابیل مراد نہیں یعنی ان فتنوں میں تم ظالم نہ بننا مظلوم بن کر مرجانا قبول کرلینا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5399