Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5386

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتَّبِعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي سعيد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر، يفر بدينه من الفتن". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں یا پانی کی جگہ لے جائے ۱؎اپنا دین فتنوں سے بچاکر بھاگ جائے۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎شعفجمع ہےشعفۃکی بمعنی بلند چوٹی۔اہل عرب پہاڑ کی چوٹیوں میں بھی اپنے مال مویشی رکھتے ہیں اور وہاں خود بھی رہتے ہیں،یہ جگہ زمین سے بہت بلند ہونے کی وجہ سے بڑے امن عافیت کی ہوتی ہے۔مواقع قطرسے مراد ہے وہ جنگل جہاں پانی کے چشمے،سبزہ زار،چراگاہ وغیرہ ہو،یہ تعمیم بعد تخصیص ہے یا اس کے برعکس۔
۲
؎یعنی اس علیحدگی کی وجہ اپنے دین کی حفاظت ہو نہ کہ مسلمانوں سے نفرت کہ ایسے موقعہ پر لوگوں سے خلط ملط اپنے لیے دینی خرابی کا ذریعہ ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5386