- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5397
باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5397
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفًا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَوْمًا عَلَى حِمَارٍ، فَلَمَّا جَاوَزْنَا بُيُوتَ الْمَدِينَةِ قَالَ: "كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ جُوعٌ تَقُومُ عَنْ فِرَاشِكَ وَلَا تَبْلُغُ مَسْجِدَكَ حَتَّى يُجْهِدَكَ الْجُوعُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "تَعَفَّفْ يَا أَبَا ذَرٍّ"، قَالَ: "كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ مَوْتٌ يَبْلُغُ الْبَيْتُ الْعَبْدَ حَتَّى إِنَّهُ يُبَاعُ الْقَبْرُ بِالْعَبْدِ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "تَصَبَّرْ يَا أَبَا ذَرٍّ"، قَالَ: "كَيْفَ بِكَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَتْلٌ تَغْمُرُ الدِّمَاءُ أَحْجَارَ الزَّيْتِ؟ " قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَأَلْبَسُ السِّلَاحَ؟ قَالَ: "شَارَكْتَ الْقَوْمَ إِذًا"، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ فَأَلْقِ نَاحِيةَ ثَوْبِكَ عَلَى وَجْهِكَ لِيَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ". رَوَاهُ وأَبُو دَاوُدَ.
وعن أبي ذر قال: كنت رديفا خلف رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يوما على حمار، فلما جاوزنا بيوت المدينة قال: "كيف بك يا أبا ذر إذا كان بالمدينة جوع تقوم عن فراشك ولا تبلغ مسجدك حتى يجهدك الجوع؟ " قال: قلت: الله ورسوله أعلم، قال: "تعفف يا أبا ذر"، قال: "كيف بك يا أبا ذر إذا كان بالمدينة موت يبلغ البيت العبد حتى إنه يباع القبر بالعبد؟ "، قال: قلت: الله ورسوله أعلم، قال: "تصبر يا أبا ذر"، قال: "كيف بك يا أبا ذر إذا كان بالمدينة قتل تغمر الدماء أحجار الزيت؟ " قال: قلت: الله ورسوله أعلم، قال: "تأتي من أنت منه"، قال: قلت: وألبس السلاح؟ قال: "شاركت القوم إذا"، قلت: فكيف أصنع يا رسول الله؟ قال: "إن خشيت أن يبهرك شعاع السيف فألق ناحية ثوبك على وجهك ليبوء بإثمك وإثمه". رواه وأبو داود.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے پیچھے ایک دن ردیف تھا ۱؎ایک گدھے پر تو جب ہم مدینہ کے گھروں سے نکل گئے تو فرمایا اے ابوذر اس دن تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام بھوک ہوگی ۲؎تم اپنے بستر سے اٹھو گے تو اپنی مسجد نہ پہنچو گے کہ تم کو بھوک مشقت میں ڈال دے گی۳؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول ہی جانیں، فرمایا پرہیز گار رہنا۴؎اے ابو ذر فرمایا،اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں عام موت پھیل جاوے گی۵؎کہ گھر غلام کی قیمت کو پہنچ جاوے گا ۶؎حتی کہ ایک قبر ایک غلام کی عوض بکے گی ۷؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول خوب جانیں،فرمایا صبر کرنا اے ابوذر۸؎فرمایا اے ابوذر اس وقت تمہارا کیا ہے حال ہوگا جب کہ مدینہ میں قتل عام ہوگا حتی کہ خون ریت کے پتھروں کو ڈبو دے گا ۹؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا الله رسول خوب جانیں فرمایا ان میں چلے جانا جن میں سے تم ہو۱۰؎میں نے عرض کیا کہ ہتھیار باندھ لوں فرمایا تب تو تم قوم میں شریک ہوگئے ۱۱؎میں نے عرض کیا کہ میں کیا کروں یا رسول اللہ فرمایا اگر تمہیں خطرہ ہو کہ تمہیں تلوار کی شعاعیں چوندھیاویں گی تو اپنے کپڑے کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ تمہارا اور اپنا گناہ لے کر لوٹے ۱۲؎(ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎جب ایک گھوڑے یا خچر پر دو آدمی سوار ہوں تو آگے والامردفہے پیچھے والاردیف۔آپ کا یہ فرمانایا تو الله کی نعمت ظاہر کرنے کے لیے ہے کہ مجھے حضور انور سے بہت ہی قرب نصیب ہوا یا حدیث کی قوت بتانا مقصود ہے،یعنی یہ فرمان عالی میں نے بہت ہی قریب سے سنا لہذا بالکل صحیح سنا جس میں کوئی شک شبہ نہیں۔
۲؎یعنی تمہاری زندگی میں مدینہ منورہ میں عام قحط سالی ہوگی معلوم نہ ہوسکا کہ یہ کس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اگر واقعہ حرہ کی طرف اشارہ ہے تو بھوک سے مراد ہے خود ابوذر کا بھوکا ہونا کہ اس وقت جو صحابہ گوشہ نشین ہوگئے تھے وہ بھوکے رہے۔
۳؎اس سے معلوم ہوا کہ بھوک سے مراد عام قحط سالی نہیں بلکہ خاص ان کا بھوکا ہونا ہے یعنی تم بھوک کی شدت کی وجہ سے بمشکل مسجد تک پہنچ سکو گے۔
۴؎یعنی تم اس وقت بھوک کی وجہ سے رزق کے لیے شریعت کی حدیں مت توڑنا،حلال روزی پر قناعت کرنا اور بھوک کی وجہ سے بددینوں سے تعلق نہ رکھنا۔
۵؎یہ عام موت کسی وبائی بیماری کی وجہ سے نہ ہوگی کہ مدینہ منورہ وبا سے محفوظ سے،وہاں دجال طاعون نہیں پہنچ سکتے۔
۶؎اس فرمان عالی کی بہت تفسیریں ہیں: ایک یہ کہ مردوں کی زیادتی کی وجہ سے وقف قبرستان تو بھر جائیں گے لوگ مملوکہ زمینوں میں دفن کرنے پر مجبور ہوجائیں گے اور زمینوں کے مالک ایک قبر کی زمین کی اتنی بھاری قیمت وصول کریں گے جتنی قیمت ایک غلام کی ہوتی ہے۔دوسرے یہ کہ ایک قبر کھودنے کی اجرت اتنی زیادہ ہوگی جتنی ایک غلام کی ہوتی ہے۔تیسرے یہ کہ غلاموں کے عوض قبر کی زمین خریدی جاوے گی۔ان صورتوں میںبیتسے مراد قبر ہے۔ تیسرے یہ کہ لوگ اس قدر مرجاویں گے کہ گھر خالی رہ جاویں اور اتنے سستے ہوجاویں گے کہ ایک غلام کی قیمت میں ایک گھر مل جاوے گا۔چوتھے یہ کہ گھر میں ایک غلام سارے گھر کا نگراں ہوگا باقی لوگ یا بیمار ہوں گے یا مرچکے ہوں گے،ان صورتوں میں گھر سے مراد رہائشی گھر ہے۔(اشعہ)مگر پہلے دو معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔جو امام کفن چور کا ہاتھ کٹواتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ حضور انور نے قبر کو گھر فرمایا تو جیسے گھر میں سے چوری کرنے والے کے ہاتھ کٹتے ہیں ایسے ہی قبر میں سے چوری کرنے والے کے ہاتھ کٹیں گے مگر یہ دلیل نہایت ہی کمزور ہے کیونکہ کفن کسی کی ملکیت نہیں اور غیرمملوک ہے۔
۷؎یہ فرمان عالی یا تو الگ جملہ ہے یا پہلے جملے کی شرح ہے،دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۸؎یعنی اس شدت میں بھی مدینہ منورہ مت چھوڑنا یہاں ہی صبر سے رہنا کہ مدینہ کی موت دوسری جگہ کی زندگی سے افضل ہے۔شعر
ان کے در پر دم نکل جائے تو جی جائیں حسن ان کے در سے دور رہ کر زندگی اچھی نہیں
۹؎اس فرمان عالی میں اشارہ ہے واقعہ حرہ کی طرف جو یزید مردود کے زمانہ میں بعد واقعہ کربلا ہوا کہ یزید نے مسلم ابن عقبہ کی سر کردگی میں ایک لشکر جرار سے مدینہ منورہ پر حملہ کردیا،تین دن یا پانچ دن مدینہ پاک میں قتل عام کرایا،مسجد نبوی شریف میں کئی دن اذان نہ ہوسکی، مدینہ منورہ کی گلی کوچوں میں حضرات صحابہ و تابعین کا خون پانی کی طرح بہا۔یہاں سے پھر اس لشکر نے مکہ معظمہ کا رخ کیا ابھی یہ لشکر راستہ میں تھا کہ مسلم ابن عقبہ ہلاک ہوا اس کے بعد یزید جہنم رسید ہوا۔احجار الزیت یا تو مدینہ منورہ کے ایک محلہ کا نام ہے یا ایک میدان کا کیونکہ وہاں کالے چکنے پتھر ہیں گویا تیل چپڑے سے ہوں۔اس واقعہ کی تفصیل تاریخ مدینہ میں دیکھو۔(از مرقات و اشعہ)
۱۰؎یہ جملہ خبر بمعنی امر ہے یعنی تم ان کے پاس چلے جانا جن میں سے تم ہو،یعنی اپنے گھر اپنے بال بچوں میں رہنا بلا ضرورت باہر نہ نکلنا یہ ہی معنی درست ہیں کیونکہ جنگ حرہ میں سوا یزید کے کوئی سلطان تھا ہی نہیں۔
۱۱؎یعنی اس موقعہ پر اگر تم بھی جنگ کرنے لگے تو اس فتنہ میں شریک ہوگئے اور اس شرکت سے فتنہ بڑھے گا گھٹے گا نہیں اس لیے اس فتنہ میں حضرت امام زین العابدین اور ان کے ساتھی رضی الله عنہم گوشہ نشین رہے یہ تھا اس حکم پر عمل۔
۱۲؎یعنی اگر تمہارے گوشہ نشین خانہ نشین ہونے کے باوجود کوئی ظالم سفاک تمہارے گھر میں قتل کرنے آجاوے تو اس کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ اپنا آپ چھپاکر خاموش بیٹھے رہنا کہ وہ تمہیں اس صبروشکر کی حالت میں قتل کردے۔خیال رہے کہ یہ فرمانا حضرت ابو ذر سے مگر سنانا ہے دوسرے کو کیونکہ حضرت ابو ذر غفاری نے حرہ کا واقعہ نہیں پایا،آپ کی وفات ۳۲ھ بتیس ہجری خلافت عثمانیہ میں ہوئی اور حرہ کا یہ واقعہ ۶۲ھ میں ہوا،یہ حکم خصوصی طور پر زمین مدینہ میں کشت و خون سے بچنے کے لیے ہے اسی لیے حضرت عثمان غنی شہیدہوئے کہ آپ نے قاتل کا وار روکا بھی نہیں، ظالم کفار سے اپنا بچاؤ ان پر وارکرنا ضروری ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5397