- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5398
باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5398
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "كَيْفَ بِكَ إِذَا أُبْقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ، مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ؟ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: فَبِمَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "عَلَيْكَ بِمَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ وَإِيَّاكَ وَعَوَامَّهُمْ" وَفِي رِوَايَةٍ: "الْزَمْ بَيْتَكَ وَأَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَامَّةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ.
وعن عبد الله ابن عمرو بن العاص أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "كيف بك إذا أبقيت في حثالة من الناس، مرجت عهودهم وأماناتهم؟ واختلفوا فكانوا هكذا؟ " وشبك بين أصابعه، قال: فبم تأمرني؟ قال: "عليك بما تعرف ودع ما تنكر، وعليك بخاصة نفسك وإياك وعوامهم" وفي رواية: "الزم بيتك وأملك عليك لسانك، وخذ ما تعرف ودع ما تنكر، وعليك بأمر خاصة نفسك ودع أمر العامة". رواه الترمذي وصححه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم لوگوں کی بھوسی میں رہ جاؤ گے ۱؎کہ ان کے عہدوپیمان اور امانتیں گڑ بڑ ہوں گی اور آپس میں اختلاف کریں گے تو ایسے ہوجائیں گے اور اپنی ا نگلیوں شریف کو گتھا دیا ۲؎عرض کیا مجھے کیا حکم ہے فرمایا جسے بھلا جانو اسے لازم مضبوط پکڑ لو اور جسے برا جانو وہ چھوڑ دو اور تم اپنی خاص ذات کی فکر رکھو عوام سے بچو۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ اپنا گھر لازم پکڑ لو اپنی زبان قابو میں رکھو۴؎جو اچھا جانو وہ اختیار کرلو اور جو برا جانو چھوڑ دو اور اپنا خاص معاملہ اختیار کرو اور عام لوگوں کا معاملہ چھوڑ دو ۵؎(ترمذی) اور اسے صحیح فرمایا۔
شرح حدیث
۱∞؎حثالہگیہوں یا جوکی وہ بھوسی جو کسی کام نہ آوے۔اسبغول کی بھوسی بہت کار آمد اور قیمتی چیز ہے اسے حثالہ نہیں کہاجاتا۔یعنی تم بیکار لوگوں میں رہ جاؤ گے جن سے کسی کو کوئی فائدہ نہ ہوگا محض بے کار ہوں گے،ان کا حال آگے ارشاد ہو رہا ہے۔
۲؎یعنی ان لوگوں میں تین عیب ہوں گے: وعدہ خلافی،امانتوں میں خیانت،آپس میں لڑائی جھگڑے۔ اس سے حضرات صحابہ مراد نہیں بلکہ بعد والے لوگ،تمام صحابہ عادل ثقہ ہیں،ان کی عدالت پر قرآن کریم گواہ ہے،فرماتاہے:"وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی"۔
۳؎یعنی اس زمانہ میں اپنی فکر کرو لوگوں کی فکر نہ کرو بلکہ انہیں تبلیغ بھی نہ کرو کہ اس زمانہ میں لوگ تمہاری تبلیغ کا اثر تولیں گے نہیں الٹے تمہارے پیچھے پڑ جائیں گے۔پہلے گزر چکا کہ ایسی مجبوری کی حالت میں تبلیغ فرض نہیں رہتی۔
۴؎یعنی اس وقت لوگوں کے حالات ان کے معاملات میں گفتگو نہ کرو اور بغیر سوچے سمجھے بات نہ کرو کہ اکثر اوقات زبان کی وجہ سے آفت آجاتی ہے۔یہ فرمان عالی تاقیامت امان کی تعلیم ہے،زبان پر قابو رکھنے سے بہت آفات دور رہتی ہیں،یوں ہی اپنے گھر میں رہنا لوگوں سے خلط ملط نہ رکھنا گناہوں سے بچے رہنے کا ذریعہ ہے۔
۵؎یہ وجوبی حکم نہیں بلکہ اباحت اور اجازت کا حکم ہے کہ ایسی مجبوری میں تبلیغ چھوڑ دینے کی اجازت ہے،اگر کوئی ہمت و صبر والا بندہ ایسی حالت میں بھی تبلیغ کرے اور مصیبت جھیلے تو ثواب کا مستحق ہوگا۔حضرت نوح علیہ ا لسلام نے سخت مجبوری میں تبلیغ کی اور قوم سے بڑی مصیبتیں جھیلیں،حضرت امام حسین نے فتنہ یزیدی میں سفرکیا تبلیغ فرمائی اور جام شہادت نوش کیا۔ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت حذیفہ کو حکم دیا کہ فتنہ کے زمانہ میں گوشہ نشین بلکہ جنگل نشین ہوجاویں لوگوں سے الگ رہیں مگر حضرت عبدالله ابن عمرو کو حکم دیا گیا کہ لوگوں میں رہیں بسیں مگر زبان کی نگرانی کریں۔ حضور صلی الله علیہ و سلم حکیم مطلق ہیں،حکیم ہر مریض کو اس کے مزاج کے مطابق دوا دیتا ہے،جناب حذیفہ کے لیے وہ مناسب تھا اور جناب ابن عمرو کے لیے یہ مناسب۔حضرت عبدالله ہمیشہ کے روزہ دار شب بیدار تھے،آپ کے والد عمرو ابن عاص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے آپ کو تین نصیحتیں فرمائیں: تہائی رات جاگو دو تہائی سوؤ،ہر مہینہ تین روزے رکھو،اپنے باپ کا حکم مانو۔اختلاف صحابہ رضی اللہ عنھم کے زمانہ میں حضرت عمرو ابن عاص امیر معاویہ کے ساتھ رہے،حضرت عبدالله ابن عمرو بظاہر امیر معاویہ کے ساتھ رہے باپ کی وجہ سے اور درپردہ حضرت علی کے ساتھ اور کہا کرتے تھے کہ میں اپنے والد کے ساتھ خیر میں شریک ہوں نہ کہ شر میں،حضرت حسین رضی الله عنہ کو دیکھ کر کہتے تھے کہ میں ان سے ہوں مگر افسوس کہ ان کے ساتھ نہیں رہ سکتا ہوں۔(اشعہ)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5398