Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5398

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "كَيْفَ بِكَ إِذَا أُبْقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ، مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ؟ وَاخْتَلَفُوا فَكَانُوا هَكَذَا؟ " وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: فَبِمَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "عَلَيْكَ بِمَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ وَإِيَّاكَ وَعَوَامَّهُمْ" وَفِي رِوَايَةٍ: "الْزَمْ بَيْتَكَ وَأَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ أَمْرَ الْعَامَّةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ.

وعن عبد الله ابن عمرو بن العاص أن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "كيف بك إذا أبقيت في حثالة من الناس، مرجت عهودهم وأماناتهم؟ واختلفوا فكانوا هكذا؟ " وشبك بين أصابعه، قال: فبم تأمرني؟ قال: "عليك بما تعرف ودع ما تنكر، وعليك بخاصة نفسك وإياك وعوامهم" وفي رواية: "الزم بيتك وأملك عليك لسانك، وخذ ما تعرف ودع ما تنكر، وعليك بأمر خاصة نفسك ودع أمر العامة". رواه الترمذي وصححه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم لوگوں کی بھوسی میں رہ جاؤ گے ۱؎کہ ان کے عہدوپیمان اور امانتیں گڑ بڑ ہوں گی اور آپس میں اختلاف کریں گے تو ایسے ہوجائیں گے اور اپنی ا نگلیوں شریف کو گتھا دیا ۲؎عرض کیا مجھے کیا حکم ہے فرمایا جسے بھلا جانو اسے لازم مضبوط پکڑ لو اور جسے برا جانو وہ چھوڑ دو اور تم اپنی خاص ذات کی فکر رکھو عوام سے بچو۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ اپنا گھر لازم پکڑ لو اپنی زبان قابو میں رکھو۴؎جو اچھا جانو وہ اختیار کرلو اور جو برا جانو چھوڑ دو اور اپنا خاص معاملہ اختیار کرو اور عام لوگوں کا معاملہ چھوڑ دو ۵؎(ترمذی) اور اسے صحیح فرمایا۔

شرح حدیث

۱∞؎حثالہگیہوں یا جوکی وہ بھوسی جو کسی کام نہ آوے۔اسبغول کی بھوسی بہت کار آمد اور قیمتی چیز ہے اسے حثالہ نہیں کہاجاتا۔یعنی تم بیکار لوگوں میں رہ جاؤ گے جن سے کسی کو کوئی فائدہ نہ ہوگا محض بے کار ہوں گے،ان کا حال آگے ارشاد ہو رہا ہے۔
۲
؎یعنی ان لوگوں میں تین عیب ہوں گے: وعدہ خلافی،امانتوں میں خیانت،آپس میں لڑائی جھگڑے۔ اس سے حضرات صحابہ مراد نہیں بلکہ بعد والے لوگ،تمام صحابہ عادل ثقہ ہیں،ان کی عدالت پر قرآن کریم گواہ ہے،فرماتاہے:"وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی
۳
؎یعنی اس زمانہ میں اپنی فکر کرو لوگوں کی فکر نہ کرو بلکہ انہیں تبلیغ بھی نہ کرو کہ اس زمانہ میں لوگ تمہاری تبلیغ کا اثر تولیں گے نہیں الٹے تمہارے پیچھے پڑ جائیں گے۔پہلے گزر چکا کہ ایسی مجبوری کی حالت میں تبلیغ فرض نہیں رہتی۔
۴
؎یعنی اس وقت لوگوں کے حالات ان کے معاملات میں گفتگو نہ کرو اور بغیر سوچے سمجھے بات نہ کرو کہ اکثر اوقات زبان کی وجہ سے آفت آجاتی ہے۔یہ فرمان عالی تاقیامت امان کی تعلیم ہے،زبان پر قابو رکھنے سے بہت آفات دور رہتی ہیں،یوں ہی اپنے گھر میں رہنا لوگوں سے خلط ملط نہ رکھنا گناہوں سے بچے رہنے کا ذریعہ ہے۔
۵
؎یہ وجوبی حکم نہیں بلکہ اباحت اور اجازت کا حکم ہے کہ ایسی مجبوری میں تبلیغ چھوڑ دینے کی اجازت ہے،اگر کوئی ہمت و صبر والا بندہ ایسی حالت میں بھی تبلیغ کرے اور مصیبت جھیلے تو ثواب کا مستحق ہوگا۔حضرت نوح علیہ ا لسلام نے سخت مجبوری میں تبلیغ کی اور قوم سے بڑی مصیبتیں جھیلیں،حضرت امام حسین نے فتنہ یزیدی میں سفرکیا تبلیغ فرمائی اور جام شہادت نوش کیا۔ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ و سلم نے حضرت حذیفہ کو حکم دیا کہ فتنہ کے زمانہ میں گوشہ نشین بلکہ جنگل نشین ہوجاویں لوگوں سے الگ رہیں مگر حضرت عبدالله ابن عمرو کو حکم دیا گیا کہ لوگوں میں رہیں بسیں مگر زبان کی نگرانی کریں۔ حضور صلی الله علیہ و سلم حکیم مطلق ہیں،حکیم ہر مریض کو اس کے مزاج کے مطابق دوا دیتا ہے،جناب حذیفہ کے لیے وہ مناسب تھا اور جناب ابن عمرو کے لیے یہ مناسب۔حضرت عبدالله ہمیشہ کے روزہ دار شب بیدار تھے،آپ کے والد عمرو ابن عاص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے آپ کو تین نصیحتیں فرمائیں: تہائی رات جاگو دو تہائی سوؤ،ہر مہینہ تین روزے رکھو،اپنے باپ کا حکم مانو۔اختلاف صحابہ رضی اللہ عنھم کے زمانہ میں حضرت عمرو ابن عاص امیر معاویہ کے ساتھ رہے،حضرت عبدالله ابن عمرو بظاہر امیر معاویہ کے ساتھ رہے باپ کی وجہ سے اور درپردہ حضرت علی کے ساتھ اور کہا کرتے تھے کہ میں اپنے والد کے ساتھ خیر میں شریک ہوں نہ کہ شر میں،حضرت حسین رضی الله عنہ کو دیکھ کر کہتے تھے کہ میں ان سے ہوں مگر افسوس کہ ان کے ساتھ نہیں رہ سکتا ہوں۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5398