Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5392

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: "اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ أَشَرُّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ"، سَمِعْتُهُ مِنْ نبَيِّكُمْ -صلى اللَّه عليه وسلم-. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن الزبير بن عدي قال: أتينا أنس بن مالك، فشكونا إليه ما نلقى من الحجاج، فقال: "اصبروا فإنه لا يأتي عليكم زمان إلا الذي بعده أشر منه حتى تلقوا ربكم"، سمعته من نبيكم -صلى الله عليه وسلم-. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زبیر ابن عدی سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ہم حضرت انس کے پاس گئے تو ہم نے ان تکالیف کی شکایت کی جو ہم حجاج سے اٹھاتے ہیں۲؎فرمایا صبرکرو نہیں آئے گا کوئی زمانہ مگر اس کے بعد والا زمانہ اس سے بدتر ہوگا حتی کہ تم اپنے رب سے ملو،یہ میں نے تمہارے نبی صلی الله علیہ و سلم سے سنا ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،ہمدانی ہیں،مقام رے کے قاضی رہے ہیں،سفیان ثوری وغیرہم نے آپ سے روایات کی ہیں۔
۲
؎حجاج ابن یوسف عبدالملک ابن مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا،ایسا ظالم تھا کہ اس نے ایک لاکھ تیس ہزار مسلمانوں کو باندھ کر قتل کیا ہے،جو مسلمان جنگوں میں اس کے ذریعہ قتل ہوئے وہ علاوہ ہیں۔(مرقات)
۳
؎یعنی آئندہ عمومًا سلاطین ظالم ہی ہوں گے زمانہ جس قدر حضور صلی الله علیہ و سلم سے دور ہوتا جاوے گا ظلم و فساد بھی بڑھتا رہے گا لہذا حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا دور یا آخر زمانہ میں حضرت امام مہدی و عیسیٰ علیہ السلام کا دور اس حکم سے علیحدہ ہے،ہر زمانہ پہلے زمانہ سے دین کے لحاظ سے بدتر ہے کبھی کوئی گناہ زیادہ کبھی کوئی گناہ غفلت وغیرہ زیادہ۔مرقات نے فرمایا کہ شر سے مراد بدعات کی اشاعت سنتوں کا چھوڑ دینا ہے یا یہ مطلب ہے کہ آئندہ حکام ظالم بھی ہوں گے بدمذہب بدعقیدہ بھی۔حجاج ظالم ہے مگر دین برباد کرنا نہیں چاہتا اس نے قرآن مجید میں اعراب لگوائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5392