Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5387

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَشْرَفَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ: "هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟ " قَالُوا: لَا، قَالَ: "فَإِنِّي لأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بُيُوتِكُمْ كَوَقْعِ الْمَطَرِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أسامة بن زيد قال: أشرف النبي -صلى الله عليه وسلم- على أطم من آطام المدينة فقال: "هل ترون ما أرى؟ " قالوا: لا، قال: "فإني لأرى الفتن تقع خلال بيوتكم كوقع المطر". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم مدینہ کے ٹیلوں میں سے کسی ٹیلہ پر تشریف لے گئے ۱؎پھر فرمایا کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں۲؎لوگوں نے عرض کیا نہیں فرمایا کہ میں فتنے دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھروں کے درمیان بارش گرنے کی طرح گررہے ہیں۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اشرفکے لفظی معنی ہیں چڑھنا،جھانگنا،اچک لینا،یہاں بمعنی چڑھنا ہے۔اطمہمزہ کے پیش اورطکے پیش سے بمعنی اونچا قلعہ اونچا ٹیلہ،جمع ہےآطام،چونکہ ٹیلے چڑھنے سے ساری بستی سامنے آگئی اس لیے یہاں پہنچ کر حضور انور نے یہ فرمایا۔
۲
؎حضور انور صلی الله علیہ و سلم کا یہ سوال آئندہ فرمان عالی کی تمہید ہے ورنہ ظاہر ہے کہ صحابہ کرام نہیں دیکھ رہے تھے۔خیال رہے کہ بعض اوقات حضور صلی الله علیہ و سلم کی تجلی ساتھ والوں پر بھی پڑتی تھی جس سے ان پر بھی غیوب کی چیزیں ظاہر ہوجاتی تھیں۔ایک بار حضور خچر پر سوار دو قبروں پرگزرے تو خچر نے عذاب قبر دیکھا اور کودنے لگا،ایک بار عقاب حضور اقدس کے سر مبارک کے مقابلہ سے گزرا تو موزے کے اندر کا سانپ دیکھ لیا،حضر ت عائشہ صدیقہ نے ایک بار حضور کا تہبند اوڑھ لیا تو غیبی نور کی بارش آنکھوں سے دیکھ لی،ایک بار حضرت زید نے عرض کیا آٹھوں جنتیں ساتوں دوزخ میرے سامنے ہیں ہر جنتی دوزخی کو دیکھ رہا ہوں۔آج جن خوش نصیبوں کا سر حضور کے قدم تک پہنچ جاتا ہے ان پر عالم غیب منکشف ہوجاتا ہے مگر یہ کبھی کبھی لہذا حدیث واضح ہے۔
۳
؎اس فرمان عالی میں ان فتنوں کی طرف اشارہ ہے جو یزید ابن معاویہ،مروان ابن حکم،حجاج ابن یوسف وغیرہم کے زمانوں میں واقع ہوئے جنہوں نے سارے عرب خصوصًا مدینہ والوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔یہاں دیکھنے سے مراد آنکھوں سے دیکھنا ہے محض خیالی وہمی صورتیں مراد نہیں۔حضرات انبیاءکرام کی آنکھیں ہمارے خواب و خیال سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہیں،وہ آئندہ پیش آنے والے واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں،ہم خواب و خیال میں اگلے پچھلے واقعات دیکھ لیتے ہیں۔بارش سے تشبیہ دے کر دو باتیں فرمائیں: ایک یہ کہ وہ فتنے بارش کی طرح ہر گھر میں پہنچیں گے،دوسرے یہ کہ اس زمانہ میں کوئی شخص خانہ نشین ہوکر بھی ان سے محفوظ نہ رہ سکے گا،خلوت و جلوت ہر جگہ فتنے پہنچ جاویں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5387