Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5380

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ كَالْحَصِيرِ عُودًا عُودًا،فَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ،وَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ، حَتَّى يَصِيرَ عَلَى قَلْبَيْنِ: أَبْيَضُ مِثْلُ الصَّفَا، فَلَا تَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ، وَالآخَرُ أَسْوَدُ مُرْبَادًّا كَالْكُوزِ مُجَخِّيًّا لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "تعرض الفتن على القلوب كالحصير عودا عودا،فأي قلب أشربها نكتت فيه نكتة سوداء،وأي قلب أنكرها نكتت فيه نكتة بيضاء، حتى يصير على قلبين: أبيض مثل الصفا، فلا تضره فتنة ما دامت السماوات والأرض، والآخر أسود مربادا كالكوز مجخيا لا يعرف معروفا ولا ينكر منكرا إلا ما أشرب من هواه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ دلوں پر فتنے پیش آئیں گے ۱؎جیسے چٹائی کا ایک ریگ جو دل فتنے پلا دیا گیا اس میں سیاہ دھبہ پیدا کر دیں گے اور جو دل انہیں برا سمجھے اس میں سفید داغ پیدا ہوجاوے گا۲؎حتی کہ لوگ دو قسم کے دلوں پر ہوجائیں گے۳؎ایک سفید جیسے سنگ مرمر اسے کوئی فتنہ نقصان نہ دے گا جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں اور دوسرا کالا راکھ ہمرنگ جیسے اوندھا کوزہ۴؎وہ نہ بھلائی کو پہچانے نہ برائی کو برا جانے سواء اس خواہش کے جو اسے پلادی گئی ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں فتنوں سے مراد یا دنیاوی آفتیں اور مصیبتیں ہیں یا برے عقیدے برے اعمال ہیں وہ فتنے دور ہوجائیں گے مگر ان کے اثرات دلوں پر رہ جائیں گے جیسے مٹی یا ریتے پر چٹائی بچھاؤ تو اٹھ جاتی ہے مگر اس کے نشان مٹی پر رہ جاتے ہیں۔
۲
؎یعنی جو شخص ان فتنوں کو اچھا سمجھے گا اس کا دل سیاہ ہوجاوے گا،وہ بے ایمان جیئے گا بے ایمان مرے گا اور جو ان فتنوں سے نفرت کرے گا اس کا دل نورانی ہوگا۔یہاں پلائے جانے سے مراد پسند کرنا چاہنا ہے،جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاُشْرِبُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْعِجْلَ
۳
؎یا تو لوگ دو قسم کے ہوجائیں گے: کالے دل والے اور سفید دل والے یا لوگوں کے دل دو قسم کے ہوجائیں گے: سفید اور کالے۔معلوم ہوا کہ گناہ سے الفت اور نفرت کا اثر دل پر پڑتاہے،پھر کبھی دل کا اثر چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے چہرہ دل کی کتاب ہے۔
۴
؎یعنی اس کا دل سیاہ بھی ہوگا اور ناقابل تاثیر جیسے الٹا کوزہ کہ اس میں کوئی چیز نہیں ٹھہرتی ایسے ہی اس دل میں کسی نصیحت کرنے والے کی نصیحت ٹھہرے گی نہیں،وہ دل کسی نصیحت کا اثر قبول نہ کرے گا یہ الله تعالٰی کا سخت عذاب ہے۔مجحناجحاءکا اسم فاعل ہے بمعنی اوندھا اور الٹا ہوجانا۔
۵
؎یعنی وہ شخص بجز اپنی دل پسند چیز کے کسی کو اختیار نہ کرے گا اگرچہ کتنی ہی اچھی ہو اور سوائے اپنی ناپسندیدہ چیز کے کسی چیز کو چھوڑے گا ہی نہیں اگرچہ کتنی ہی بری ہو،یہ ہے دل کی موت یا دل کا رین،رب فرماتاہے:"کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5380