Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5405

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ، إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ، إِنَّ السَّعِيدَ لَمَنْ جُنِّبَ الْفِتَنَ، وَلِمَنِ ابْتُلِيَ فَصَبَرَ فَوَاهًا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن المقداد بن الأسود قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن السعيد لمن جنب الفتن، إن السعيد لمن جنب الفتن، إن السعيد لمن جنب الفتن، ولمن ابتلي فصبر فواها". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مقداد ابن اسود سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے محفوظ رہے،نیک بخت ہے وہ جو فتنوں سے محفوظ رہے،نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے محفوظ رہے ۲؎اورجو مبتلا ہو جاوے تو صبرکرے تو اچھا ہے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام مقداد ابن عمرو کندی ہے کیونکہ آپ کے والد نے قبیلہ بنی کندہ سے معاہدہ کیا تھا،ایک شخص تھا اسود اس نے آپ کی پرورش کی اس لیے آپ ابن اسود کہلائے،قدیم الاسلام صحابی ہیں حتی کہ آپ چھٹے مؤمن ہیں۔
۲
؎حضور انور نے یہ کلام تین بار فرمایا مبالغہ کے لیے یعنی جسے الله تعالٰی فتنوں سے بچائے رکھے وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے اس طرح کہ اس کی زندگی میں کوئی فتنہ پھیلے ہی نہیں۔
۳
؎فواھااظہار حیرت کے لیے بھی آتا ہے بمعنی افسوس اور اظہار خوشی کے لیے بھی بمعنی خوب یہاں دونوں معنی ہوسکتے ہیں یعنی جو فتنہ میں پھنس گیا مگر صابر رہا اس پر افسوس ہے کہ وہ مصیبت میں مر گیا یا فتنہ میں پھنس کر صابر رہا تو بہت خوب ہے۔واھاپوشیدہ فعل کی وجہ سے منصوب ہوا،بعض شارحین نے فرمایا کہلمن ابتلیمیں لام مکسور ہے پھر اس کا مطلب ہی کچھ اور ہوگا،مرقات نے فرمایا کہواھااسماء اصوات میں سے ہے تعجب کے لیے بولا جاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5405