Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5393

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَصْحَابِي أَمْ تَنَاسَوْا؟ وَاللَّهِ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- مِنْ قَائِدِ فِتْنَةٍ إِلَى أَنْ تَنْقَضِيَ الدُّنْيَا يَبْلُغُ مَنْ مَعَهُ ثَلَاثَ مِئَةٍ فَصَاعِدًا إِلَّا قَدْ سَمَّاهُ لَنَا بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاسْمِ قَبِيلَتِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد.

عن حذيفة قال: والله ما أدري أنسي أصحابي أم تناسوا؟ والله ما ترك رسول الله -صلى الله عليه وسلم- من قائد فتنة إلى أن تنقضي الدنيا يبلغ من معه ثلاث مئة فصاعدا إلا قد سماه لنا باسمه واسم أبيه واسم قبيلته. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں الله کی قسم میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی بھول گئے یا بھلا بیٹھے ۱؎الله کی قسم رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے دنیا ختم ہونے تک تمام فتنہ گروں کو ۲؎جو تین سو یا کچھ زیادہ ہیں۳؎نہیں چھوڑا مگر ہم کو ان کے نام بتادیئے اس کا نام اس کے باپ کا نام اس کے قبیلہ کا نام۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی واقعی ہی بھول گئے یا بھلا بیٹھے یا بھولے ہوئے بن گئے کہ ان کا کبھی ذکر نہیں کرتے۔خیال رہے کہ بھول جانے اور بھلا دینے میں فرق ہے۔ضروری بات بھول جانا گناہ نہیں مگر بھلا دینا گناہ ہے،بھلا دینے میں اپنی بے پرواہی کو دخل ہوتا ہے۔
۲
؎قائدہبنا ہےقودسے بمعنی چلانا،ہانکنا،آگے سے کسی کو کھینچنا،سوق پیچھے سے ہانکنا،اس سے ہے سائق۔یہاں اس سے فتنہ پیدا کرنے والے فتنہ پھیلانے والے سردار مراد ہیں جیسے بے دین عالم جو نئے مذہب بری بدعتیں ایجاد کرکے لوگوں میں فتنہ برپا کرتے ہیں۔اس میں بہت وسعت ہے جس میں گمراہ کن علماء،جھوٹے مدعی نبوت،گمراہ بادشاہ سب ہی داخل ہیں جن سے لوگوں میں دینی فتنے پھیلیں۔یہ حدیث حضور صلی الله علیہ و سلم کے علم غیب کی کھلی دلیل ہے۔
۳
؎یہاں بڑے بڑے فتنہ گر مراد ہیں جن میں سے ہر ایک کے ماتحت ہزار ہا فتنہ گر ہوں گے جیسے حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے بہتر دوزخی ایک جنتی،وہاں بھی اصولی فرقے مراد ہیں جن میں سے ہر ایک کی صد ہا شاخیں ہیں،شیعوں کے بہت فرقے،مرزائیوں کی کئی شاخیں لہذا یہ حدیث صاف ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ فتنہ گر تو تین سو سے کہیں زیادہ ہیں۔
۴
؎تمام عرب و عجم،مشرق و مغرب کے فتنہ گر سب ہی بتادیئے پھر صرف ان کا نام ہی نہ بتایا بلکہ پتہ بھی بتادیا،یہ ہے حضور صلی الله علیہ و سلم کا علم غیب جو الله نے انہیں بخشا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5393