Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5383

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَادِرُوا بِالأَعْمَالِ فِتنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِم، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم، يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا، ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا، يبيع دينه بعرض من الدنيا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ان فتنوں سے پہلے اعمال کرلو جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے کہ انسان سویرا پائے گا مؤمن ہوکر شام کرے گا کافر ہوکر اور شام کرے گا ۱؎مؤمن ہوکر سویرا پائیگا کافر ہوکر،دنیاوی سامان کے عوض اپنا دین فروخت کر دے گا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ موقع امن و امان کا غنیمت جانو جو نیکی کرنا ہے کرلو ورنہ ایسے فتنے اٹھنے والے ہیں اور ایسی بلائیں آنے والی ہیں کہ انسان کو کچھ نہ سوجھے گا کہ میں کیا کروں،دلوں کے حالات بہت جلد بدل جائیں گے۔یہاں کافر سے مراد یا تو واقعی کافر ہے یا بمعنی ناشکرا ہے، پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کہ یہاں کافر مؤمن کے مقابل ارشاد ہوا۔
۲
؎یعنی معمولی دنیاوی لالچ میں اپنا دین چھوڑ دے گا،اس زمانہ کے علماء رشوت لےکر غلط فتوے دیں گے،حکام رشوتیں لے کر غلط فیصلے کریں گے،عوام پیسہ لے کر جھوٹی گواہی بلکہ شراب خوری،قتل تک کردیں گے یہ تو اب دیکھا جارہا ہے۔(از مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5383