- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5385
باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5385
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتنٌ، أَلَا ثُمَّ تَكُونُ فِتْنَةٌ، القاعدُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي فِيهَا، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي إِلَيْهَا، أَلَا فَإِذَا وَقَعَتْ فَمَنْ كَانَ لَهُ إِبِل فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبِلٌ وَلَا غَنَمٌ وَلَا أَرْضٌ؟ قَالَ: "يَعْمِدُ إِلَى سَيْفِهِ فَيَدُقُّ عَلَى حَدِّهِ بِحَجَرٍ،ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاءَ، اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ " ثَلَاثًا، فَقَالَ: رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ أُكْرِهْتُ حَتَّى يُنْطَلَقَ بِي إِلَى أَحَدِ الصَّفَّيْنِ، فَضَرَبَنِي رَجُلٌ بِسَيْفِهِ، أَوْ يجِيءُ سَهْمٌ فَيَقْتُلُنِي؟ قَالَ: "يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِكَ، وَيَكُونُ مِنْ أَصْحَابِ النَّار". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن أبي بكرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنها ستكون فتن، ألا ثم تكون فتن، ألا ثم تكون فتنة، القاعد خير من الماشي فيها، والماشي فيها خير من الساعي إليها، ألا فإذا وقعت فمن كان له إبل فليلحق بإبله، ومن كان له غنم فليلحق بغنمه، ومن كانت له أرض فليلحق بأرضه"، فقال رجل: يا رسول الله! أرأيت من لم يكن له إبل ولا غنم ولا أرض؟ قال: "يعمد إلى سيفه فيدق على حده بحجر،ثم لينج إن استطاع النجاء، اللهم هل بلغت؟ " ثلاثا، فقال: رجل: يا رسول الله! أرأيت إن أكرهت حتى ينطلق بي إلى أحد الصفين، فضربني رجل بسيفه، أو يجيء سهم فيقتلني؟ قال: "يبوء بإثمه وإثمك، ويكون من أصحاب النار". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ عنقریب فتنے ہوں گے پھر فتنے،خبردار پھر فتنے ہوں گے۲؎پھر وہ فتنے ہوں گے کہ ان میں بیٹھا ہوا چلتے ہوئے سے بہتر ہوگا اور چلتا ہوا دوڑتے ہوئے سے بہتر ہوگا ۳؎آگاہ رہو کہ جب وہ فتنے واقع ہوں تو جس کے اونٹ ہو اور اونٹوں سے مل جاوے اور جس کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جاوے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں پہنچ جاوے ۴؎تو ایک صاحب بولے یارسول الله فرمایئے تو جس کے پاس نہ اونٹ ہوں نہ بکریاں نہ زمین ۵؎فرمایا وہ اپنی تلوار کی طرف رخ کرے اور اس کی دھار کو پتھر سے کوٹ دے پھر الگ ہونے کی طاقت رکھے۶؎اے الله کیا میں نے پہنچا دیا(تین بار فرمایا)۷؎پھر ایک شخص نے عرض کی یارسول الله فرمایئے تو اگر مجھے مجبور کیا جاوے حتی کہ مجھے دونوں صفوں میں سے ایک صف تک لے جایا جاوے پھر مجھے کوئی اپنی تلوار سے مار دے یا آوے کہ مجھے قتل کردے ۸؎فرمایا وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹے گا اور وہ دوزخی ہوگا ۹؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام نقیع ابن عبدالحارث ابن کلاہ ہے،ثقفی ہیں،آپ حضور انور کے آزادکردہ غلاموں میں سے ہیں،بصرہ میں رہے، ۴۹ھ انچاس میں وفات پائی۔(اکمال)بڑے متقی و پرہیزگار تھے،صحابہ کی آپس کی جنگوں میں آپ علیحدہ رہے۔
۲؎یہ فرمان عالی یا تو ان فتنوں کا تسلسل بیان فرمانے کے لیے ہے یعنی آگے پیچھے مسلسل فتنے ہوں گے یا ان کی بڑائی بیان کرنے کے لیے یعنی سخت سے سخت،اس سے سخت،اس سے بھی سخت فتنے ہوں گے جو سارے عرب کو گھیر لیں گے۔
۳؎یعنی مسلمان ان فتنوں سے جس قدر دور رہے اسی قدر اچھا،اس فرمان عالی کی شرح ابھی عرض کردی گئی۔
۴؎امن کے زمانہ میں شہر بہتر ہے گاؤں اور جنگل سے کہ شہر میں علم ہے جمعہ و عیدین بلکہ پنجگانہ کی جماعت ہیں کبھی جہاد کا موقعہ بھی مل جاتا ہے مگر فتنوں کے زمانہ میں شہر سے گاؤں بلکہ جنگل بہتر ہے کہ وہاں امن ہے عافیت ہے شہر میں فتنے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے؎ان السلامۃ من اللیل و جارتھا ان لا تمر علی حال یواریھا۵؎یعنی جس کے پاس گاؤں یا جنگل میں رہنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو،نہ اپنی زمین ہو،نہ اپنے جانور ہوں نہ اور کوئی ذریعہ وہ کیا کرے اسے تو لامحالہ شہر میں ہی رہنا پڑے گا۔
۶؎نجاتاگر ت سے ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں چھٹکارا یا عذاب سے بچ جانا اور اگر ہمزہ سے ہو تو اس کے معنی ہیں بھاگ جانا دور ہوجانا،یہاں ہمزہ سے ہے یعنی اس وقت تلوار نہ چلائے بلکہ اپنی تلوار بے کار کردے کیونکہ یہ لڑائیاں مسلمانوں کی آپس میں ہوں گی، وہاں سے بھاگ جانے فتنوں سے الگ ہوجانے کی کوشش کرے۔مسلمانوں کی آپس کی لڑائیں فساد کہلاتی ہیں،کفار سے جنگ جہاد ہے۔ حضرت ابوبکرہ کا اور عبدالله ابن عمر وغیرہم صحابہ کا مسلک یہ تھا کہ بغاوت کے موقعہ پر کسی طرف شرکت نہ کرے الگ رہے،ان کی دلیل یہ حدیث تھی۔عام صحابہ کرام کا مسلک یہ تھا کہ حق والے کی مدد کرے باغیوں کو کچل دے تاکہ بغاوت پھیلنے نہ پائے،ان کی دلیل یہ آیت تھی"فَقٰتِلُوا الَّتِیۡ تَبْغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللہِ"۔ان کے نزدیک حدیث بغاوت کے لیے نہیں بلکہ عام فسادات اور بلووں کے متعلق ہے یہ ہی قول زیادہ قوی ہے۔
۷؎یعنی میرے مولٰی گواہ ہوجا کیا میں نے تیرا یہ حکم تیرے بندوں تک پہنچادیا۔معلوم ہوا کہ فتنوں سے خبردار کرنا بھی ایک تبلیغی حکم ہے جس کا پہنچانا فرض ہے۔
۸؎یعنی اگر مجھ پر ایسا حال طاری ہوجاوے کہ میں الگ نہ رہ سکوں مجبورًا کسی فریق کے ساتھ جنگ میں کھڑا ہو جاؤں مگر میری نیت جنگ کی نہ ہو صرف جانا پڑ جاوے تو میری یہ موت کیسی ہوگی۔
۹؎یعنی اس مجبوری کی صورت میں تم گنہگار نہ ہوگے بلکہ تمہارا لے جانے والا یا تمہیں قتل کرنے والا گنہگار ہوگا ایسا کہ تمہارے گزشتہ گناہ بھی اس پر پڑیں گے۔باثمی و اثمكکی شرح ہم نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی تفسیر میں واضح کردی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5385