Main Icon

باب:فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5395

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَفِينَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ سَنَةً،ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا"، ثُمَّ يَقُولُ سَفِينَةُ: أَمْسِكْ: خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ سَنَتَيْنِ، وَخِلَافَةَ عُمَرَ عَشْرَةً، وَعُثْمَانَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، وَعَلِيٍّ سِتَّةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن سفينة قال: سمعت النبي -صلى الله عليه وسلم- يقول: "الخلافة ثلاثون سنة،ثم تكون ملكا"، ثم يقول سفينة: أمسك: خلافة أبي بكر سنتين، وخلافة عمر عشرة، وعثمان اثنتي عشرة، وعلي ستة. رواه أحمد والترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سفینہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ خلافت تیس سال تک ہے ۱؎پھر سلطنت ہوجاوے گی۲؎پھر سفینہ کہتے تھے کہ حساب لگا لو ابوبکر صدیق کی خلافت دو سال اور حضرت عمر کی خلافت دس سال،حضرت عثمان کی بارہ سال،جناب علی کی چھ سال۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں خلافت سے مراد خلافت راشدہ خلافت کاملہ الله رسول کی پسندیدہ خلافت ہے۔خلیفہ راشد وہ ہے جن کی بیعت حضور صلی الله علیہ و سلم کی بیعت ہو،وہ اسلام کا سلطان بھی ہو اور رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا جانشین بھی جیسے حضرات خلفاء راشدین یا آخر زمانہ میں حضرت امام مہدی۔بعض لوگوں نے حضرت عمر ابن عبدالعزیز کو بھی خلیفہ راشد مانا ہے مگر حق یہ ہے کہ وہ صرف خلفاء راشدین تھے جیساکہ اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے۔حضرت عمر ابن عبدالعزیز اور آخر زمانہ میں امام مہدی خلیفہ برحق ہیں،امام عادل ہیں مگر ان کی خلافت خلافت راشدہ نہیں کہلاتی۔
۲
؎جس میں سلطان صرف حاکم تو ہوگا مگر حضور صلی الله علیہ و سلم کا جانشین نہ ہوگا،اس کی بیعت بیعت سلطنت ہوگی،بیعت ارادت نہ ہوگی۔غرضکہ بیعت امارت تو سلطان کی ہوگی اور بیعت ارادت حضرت مشائخ عظام کی۔
۳
؎یہ حساب تقریبی ہے جس میں سال کی کسریں یعنی مہینے چھوڑ دیئے گئے ہیں حساب تحقیقی یہی ہے کہ خلافت صدیقی دو سال چار ماہ،خلافت فاروقی دس سال چھ مہینے،خلافت عثمانی چند دن کم بارہ سال،خلافت حیدری چار سال نو ماہ، چاروں خلفاء کی خلافت انتیس سال سات مہینے نو دن ہے،پانچ ماہ باقی رہے وہ ہی حضرت امام حسن کی خلافت نے پورے کردیئے۔(اشعہ)ان مدتوں کے بیان میں کچھ اختلاف ہے بہرحال حضرت امام حسن کی چند ماہ خلافت پر تیس سال پورے ہوگئے،چونکہ امام حسن کی خلافت دراصل خلافت حیدری کا تتمہ تھی اس لیے اس کا ذکر علیحدہ نہ فرمایا۔ خیال رہے کہ مروانی حکومت کا دور یوں ہے یزید ابن معاویہ،اس کا بیٹا معاویہ ابن یزید، عبدالملک ہشام ابن عبدالملک، ولید،سلیمان،عمر ابن عبدالعزیز،ولید ابن یزید،یزید ابن ولید،مروان،ابن محمد،پھر حکومت بنی عباس میں منتقل ہوگئی۔ (مرقات)حضور خاتم انبیاء ہیں،حضرت علی خاتم الخلفاء اور امام مہدی خاتم الاولیاء ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5395