Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2833

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ: إِنَّك بِأَرْضٍ فِيهَا الرِّبَا فَاشٍإِذا كَانَ لَكَ عَلٰى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدٰى إِلَيْكَ حِمْلَ تَبْنٍ أَو حِملَ شعيرِ أَو حَبْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهٗ رِبًا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن أبي بردة بن أبي موسى قال: قدمت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام، فقال: إنك بأرض فيها الربا فاشإذا كان لك على رجل حق فأهدى إليك حمل تبن أو حمل شعير أو حبل قت فلا تأخذه فإنه ربا. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو بردہ ابن موسیٰ سے فرماتے ہیں میں مدینہ منورہ آیا ۱؎تو حضرت عبداللّٰه ابن سلام سے ملا آپ نے فرمایا تم اس جگہ رہتے ہو جہاں سود پھیلا ہوا ہے ۲؎تو اگر تمہارا کسی پر کچھ حق ہو پھر وہ تمہیں بھوسے یا جو کا بوجھ دے ۳؎یا چارے کا گٹھا دے تو ہر گز نہ لو کہ یہ سود ہے ۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابوبردہ جناب ابو موسیٰ اشعری کے صاحبزادے تھے اور تابعین سے تھے،کوفہ کے قاضی القضاۃ مدینہ منورہ زیارت و سلام کے لیے حاضر ہوئے،اس زمانہ میں جو صحابہ کرام موجود تھے ان سے ملاقات کی،ان میں حضرت عبداللّٰه ابن سلام بھی تھے،یہاں اس ملاقات کا واقعہ بیان فرمارہے ہیں۔
۲
؎یعنی عراق میں اب بھی سود کا لین دین عام ہے،بعض مسلمان بھی غلطی سے سود کا لین دین کرلیتے ہیں اسے سود سمجھتے ہی نہیں۔
۳
؎جو تم خود تو نہ کھاؤ گے اپنے جانوروں کو کھلاؤ گے وہ بھی قبول نہ کرو کہ وہ ملکیت میں تو تمہاری ہی آئے گا،پھر جو بھی کھائے مجرم تم ہو گے۔
۴
؎قَتٌّقکے فتحتکے شد سے بمعنی ہرا چارہ جسے عربی میں رطب اورابّبھی کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اَبًّا مَّتَاعًا لَّکُمْ"مکہ معظمہ میں اسے ہرسوم کہا جاتا ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ مقروض سے اپنے جانور کے لیے ہری گھاس بھی نہ لو کہ یہ بھی سود ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اپنے جانور کو بھی حرام غذا نہ کھلائے،یہ بھی معلوم ہوا کہ سود یا رشوت لے کر دوسرے کو دے دینے سے بھی مجرم بری نہ ہوجائے گا وہ گنہگار ہی رہے گا،بعض لوگ اپنا جانور دوسرے کے کھیت میں چرالیتے ہیں یہ بھی چوری ہے،اس چارے سے جو دودھ حاصل ہوگا مشکوک ہوگا بہت احتیاط چاہیے،اس حدیث میں غور کرو اپنے معاملات سنبھالو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2833