Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2820

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» فَقَالَ: نَعَمْ فَنَهَاهُ عَنْ ذٰلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن سعد بن أبي وقاص قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن شراء التمر بالرطب فقال: «أينقص الرطب إذا يبس؟» فقال: نعم فنهاه عن ذلك. رواه مالك والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو سنا کہ آپ سے کھجور چھوہاروں کے عوض خریدنے کے متعلق پوچھا گیا ۱؎تو فرمایا کیا کھجور خشک ہو کر کم ہوجاتی ہے ۲؎عرض کیا ہاں تب آپ نے اس سے منع فرمادیا۳؎(مالک،ترمذی، ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اگر تر کھجور خشک چھوہاروں کے عوض برابر برابر فروخت کی جائے تو درست ہے یا نہیں کہ اس وقت تو برابر ہی ہیں،سوال نہایت اعلٰی ہے۔
۲
؎یہ سوال ناواقفی کی بنا پر نہیں کہ تر کھجور کا خشک ہو کر کم ہوجانا بالکل ظاہر ہے،خصوصًا اہل عرب پر خصوصًا حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم پر بلکہ آئندہ جواب کی تمہید کے لیے ہے جیسا کہ روش کلام سے ظاہر ہے۔(مرقات)
۳
؎امام شافعی و صاحبین کے ہاں تر کھجور و خرما کی بیع برابر برابر بھی ناجائز ہے اس حدیث کی بنا پر مگر ہمارے امام اعظم کے ہاں برابر برابر کی بیع درست ہے۔اولًا تو یہ حدیث ضعیف ہے اس سے حرمت جیسا مسئلہ ثابت نہیں ہوسکتا۔ (اشعہ)اگر حدیث صحیح بھی ہو تو اس سے ادھار کی بیع مراد ہوگی کہ ایک جنس میں ادھار کی بیع حرام ہے دوسری روایات میں لفظنسیئۃآیا بھی ہے،انگور کی بیع کشمش یا منقے سے،تازہ گوشت کی بیع خشک گوشت سے اسی اختلاف پر ہے کہ امام اعظم کے ہاں برابر برابر کی درست دیگر آئمہ کے ہاں ممنوع۔ (مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2820