Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2824

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أسامة بن زيد أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الربا في النسيئة» . وفي رواية قال: «لا ربا فيما كان يدا بيد(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا سود ادھار میں ہے ایک روایت میں یوں ہے جو ہاتھ بہ ہاتھ نقد ہو اس میں سود نہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حصر اضافی ہے نہ کہ حقیقی جیسے رب کا فرمان"اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃَ"میں کہ قرآن کریم نے جو صرف چھ جانوروں کی حرمت بیان کی حصر کے طریقہ پر یہ مشرکین کے بحیرہ سائبہ وغیرہ کے مقابلہ میں ہے ورنہ کتا گدھا وغیرہ بھی حلال نہیں ہے۔کسی شخص نے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ہم کو برابر برابر فروخت کرنے کے متعلق دریافت کیا ہوگا،یا مختلف الجنس کو زیادتی کمی سے بچنے کے بارے میں پوچھا ہوگا تو فرمایا ان صورتوں میں سود صرف ادھار میں ہوگا نقد میں نہیں،ایک سیر گندم دوسیر جو کے عوض یا ایک سیر گندم ایک سیر گندم کے عوض نقد بیچ سکتے ہیں ادھار نہیں لہذاالربومیں الف لام عہدی ہے یعنی ان کا ربوٰ صرف ادھار میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ الف لام استغراقی ہو یعنی ادھار میں مطلقًا زیادہ حرام ہے خواہ دونوں کے عوض و قدر میں یکساں ہوں یا صرف جنس میں یا صرف قدر میں یکساں ہوں،نقد کی تجارت میں ربوٰ جب حرام ہوگا جب کہ دونوں عوض جنس میں بھی ایک ہوں وزن میں بھی لہذا یہ حدیث گزشتہمثلًا بمثلٍکے خلاف نہیں۔(لمعات،اشعہ،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2824