Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2809

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى الْآخِذُ وَ الْمُعْطِي فِيهِ سَوَاءٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل يدا بيد فمن زاد أو استزاد فقد أربى الآخذ و المعطي فيه سواء. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض،گیہوں گیہوں کے عوض،جو جو کے عوض اور چھوہارے چھوہاروں کے عوض،نمک نمک کے عوض برابر برابر ہاتھ بہ ہاتھ بیچو ۱؎جو زیادہ دے یا زیادہ لے اس نے سود کا کاروبار کیا، لینے والا دینے والا اس میں برابر ہے۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ سود کی حرمت صرف ان چھ چیزوں سے خاص نہیں ان چھ چیزوں کا ذکر اس لیے ہے کہ دوسری چیزوں کو بھی اس پر قیاس کیا جاسکے،علت قیاس میں فقہاء کا اختلاف ہے،ہمارے ہاں جنس و وزن یا کیل میں اتحاد علت قیاسی ہیں۔
۲
؎خلاصہ یہ ہے کہ سود دو شخصوں سے قائم ہے دینے والے اور لینے والے سے لہذا سود کے دونوں مجرم ہوں گے کہ ان دونوں نے حرام کاروبار کیا اگرچہ لینے والا بڑا گنہگار ہوگا جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا۔(مرقات)خیال رہے کہ نام و کام میں یکساں ہونا ہم وزنیت،لہذا گائے اور بکری کے گوشت ہم جنس نہیں کہ نام اگرچہ دونوں کا گوشت ہی ہے مگر کام میں قاعدوں میں فرق ہے اور سونا و لوہا ہم وزن نہیں کہ سونے کے باٹ رتی،ماشہ،تولہ اور لوہے کے باٹ سیرو من ہیں لہذا بکری و گائے کے گوشت میں زیادتی جائز،ایسے ہی سونے و لوہے میں زیادتی حلال ہے کہ بکری کا گوشت ایک سیردےکر گائے کا گوشت دو سیرلے لیا جائے یا دو تولہ سونا دےکر دو من لوہا لے لیا جائے یا ایک انڈا دو انڈوں کے عوض،ایک گز لٹھا کپڑا دو گز لٹھے کپڑے کے عوض لے لیا جائے کہ انڈے اور کپڑے وزن یا کیلی چیز نہیں بلکہ انڈا عددی ہے اور کپڑا ذرعی یعنی انڈے گن کر اور کپڑا گزوں سے ناپ کر فروخت ہوتے ہیں ان میں زیادتی سود نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2809