Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2825

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زِنْيَةً» رَوَاهُ أَحْمَدُ والدّارَقُطْنِيُّ وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ: وَقَالَ: مَنْ نَبَتَ لَحْمُهٗ مِنَ السُّحت فَالنَّار أَوْلٰى بِهٖ

وعن عبد الله بن حنظلة غسيل الملائكة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد من ستة وثلاثين زنية» رواه أحمد والدارقطني وروى البيهقي في شعب الإيمان عن ابن عباس وزاد: وقال: من نبت لحمه من السحت فالنار أولى به

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبد اللّٰه ابن حنظلہ سے جنہیں فرشتوں نے غسل دیا ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سود کا ایک درہم جو جانتے ہو انسان کھائے ۲؎وہ چھتیس بار زنا سے سخت تر ہے۳؎(احمد،دارقطنی)بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس سے روایت کی وہاں یہ زیادتی ہے کہ فرمایا جس کا گوشت حرام سے اُگا ہوگا تو آگ اس سے بہت قریب ہوگی ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎غسیل ملائکہ حضرت حنظلہ کی صفت ہے نہ کہ عبداللّٰه کی،حضرت حنظلہ غزوہ احد کے دن نو عروس تھے،ابھی جنابت سے غسل نہ کیا تھا کہ اعلان جہاد ہوگیا،بغیر غسل کیے چلے گئے اور شہید ہوگئے،انہیں حضرت جبریل و میکائیل نے غسل دیا،ان کی نعش شریف سے پانی ٹپک رہا تھا اسی لیے ان کا لقب غسیل الملائکہ ہوا،ان کے بیٹے حضرت عبداللّٰه بھی صحابی ہیں،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت سات سالہ تھے،انصار کے سردار تھے، یزید ابن معاویہ کی بیعت مع انصار مدینہ کے آپ نے توڑ دی اور حرہ کے دن اپنے سات بیٹوں کے ساتھ یزیدی لشکر کے ہاتھوں شہید ہوئے،بڑے متقی و پرہیزگار تھے۔(اشعہ)
۲
؎کھانے سے مراد ہے سود لیناخواہ کھائے یا پہنے یا کسی اور استعمال میں لائے یا صرف جمع کرکے رکھے،چونکہ تمام استعمالات میں کھانا زیادہ اہم ہے اس لیے اس کا ذکر فرمایا،ہماری اصطلاح میں بھی سود لینے والے کو سود خوار یعنی سود کھانے والا کہا جاتا ہے،ایک درہم سےمراد معمولی سامال ہے۔جاننے کی قید اس لیے لگائی کہ بے علمی میں اگر سود کا پیسہ استعمال میں آجائے تو گناہ نہیں اسی لیے مخلوط کمائی والے کے ہاں دعوت وغیرہ کھانا جائز ہے کہ ہمیں خبر نہیں کس مال سے کھانا پکایا گیا۔
۳
؎ایک سود کے چھتیس زنا سے بدتر ہونے کی چند وجہیں ہیں:زنا حق اللّٰه ہے اور سود حق العباد جو توبہ سے معاف نہیں ہوتا،سود خوارکو اللّٰه رسول سے جنگ کا اعلان ہے زانی کو یہ اعلان نہیں، سود خوار کو خرابی خاتمہ کا اندیشہ ہے زانی کے متعلق یہ اندیشہ نہیں ، سود خوار مقروض اور اس کے بال بچوں کو تباہ کرتا ہے اسی لیے سود خوارپر زیادہ سختی ہے۔(لمعات،مرقات)نیز عمومًا مسلمان زنا سے تو نفر ت کرتے ہیں مگر سود سے نہیں،حکومتیں اور گناہوں کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں مگر سود کو رواج دیتی ہیں اس سے بچنا مشکل ہے۔
۴
؎یعنی جیسے مٹی کے تیل میں بھیگا ہوا کپڑا آگ میں جل جاتا ہے ایسے ہی سود،رشوت،جوئے،چوری وغیرہ حرام مال سے پیدا شدہ گوشت دوزخ کی آگ میں بہت جلد جلے گا،چونکہ غذا سے خون اور خون سے گوشت بنتا ہے اس لیے غذا بہت پاکیزہ ہونی چاہیے،حرام غذا کا اثر سارے بدن پر پڑتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2825