Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2817

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تُبَاعُ حَتّٰى تُفْصَلَ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن فضالة بن أبي عبيد قال: اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: لا تباع حتى تفصل . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت فضالہ ابن ابی عبید سے فرماتے ہیں میں نے خیبر کے دن بارہ دینار کے عوض ایک ہار خریدا جس میں سونا بھی تھا اور موتی کے منکے بھی میں نے اسے کھول ڈالا تو اس میں سونا بارہ دینار سے زیادہ پایا ۱؎تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے کیا حضور انور نے فرمایا ایسے ہار بغیر جدا کیے نہ بیچے جائیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کے ہار کے سونے کا وزن بارہ دینار کے وزن سے زائد تھا تو مجھے سونا زیادہ ملا اورموتی کے منکے اس کے علاوہ۔
۲
؎کیونکہ ایسی تجارت میں سود کا قوی اندیشہ ہے اگر یہاں ہار کا سونا برابربھی ہوتا تب بھی سود تھا کہ موتی زائد تھے ایسی صورت میں دینار ہار کے سونے سے زائد چاہئیں تاکہ زیادتی موتی کے مقابل ہوجائے اور عقد میں سود نہ رہے۔ خیال رہے کہ اس موقعہ پر حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے آئندہ کے لیے تو ایسی تجارت کی ممانعت فرمادی مگر یہ بیع رد نہ فرمائی اور خریدار کو واپسی کا حکم نہ دیا کیونکہ اس زمانہ میں مسئلہ سے ناواقفی عذر تھی کہ قانون سود پورے طور پر نہ واضح ہوا تھا نہ مشتہر،اب اگر ایسا عقد کوئی ناواقفی سے کرے تو واپسی کرنا ہوگا جڑاؤ سنہری ہار اگر سونے کے عوض بیچا جائے تو سونے کا وزن معلوم ہونا بھی ضروری ہے اور جو سونا ہار کے عوض دیا جائے اس کا زیادہ ہونا بھی لازم تاکہ یہ زیادتی ہار کے موتی وغیرہ کے عوض ہوجائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2817