Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2823

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهٗ أَن يُجهِّزَ جَيْشًا فَنَفِدَتِ الإِبِلُ، فَأَمَرَهٗ أَن يَأْخُذَ عَلٰى قَلَائِصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالبَعِيرَيْنِ إِلٰى إِبِلِ الصَّدَقَةِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص: أن النبي صلى الله عليه وسلم أمره أن يجهز جيشا فنفدت الإبل، فأمره أن يأخذ على قلائص الصدقة فكان يأخذ البعير بالبعيرين إلى إبل الصدقة. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰهابن عمرو ابن عاص سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں ایک لشکر کے سامان تیار کرنے کا حکم دیا ۱؎تو اونٹ ختم ہوگئے ۲؎تو حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے انہیں حکم دیا کہ صدقہ کی اونٹنیوں کے عوض لے لیں تو وہ صدقہ کے اونٹ آنے تک ایک اونٹ دو اونٹوں کے عوض لیتے تھے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حکم دیا کہ لشکر کو سواریوں ہتھیاروں اور دیگر سامان سے لیس کردیں۔
۲
؎یعنی بعض سپاہیوں کو اونٹ نہ ملے اونٹ ختم ہوگئے اور سپاہی بچ رہے کہ اونٹ کم تھے اور سپاہی زیادہ تھے۔
۳
؎اس کی صورت یہ ہے کہ آج لوگوں سے اونٹ خرید لو اور ان تاجروں سے وعدہ کرلو کہ جب زکوۃ کے اونٹ آئیں تو تم کو ایک کے عوض دو اور دو کے عوض چار دیئے جائیں گے۔ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے کہ جو جانور کے ادھار کی بیع جائز کہتے ہیں،ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ اولًا تو یہ حدیث ہی ضعیف ہے،اس ضعیف حدیث سے استدلال درست نہیں اور اگرصحیح بھی ہو تو منسوخ ہے،یہ حکم اس وقت تھا جب کہ اسلام میں سود حرام نہ ہوا تھا،ہماری دلیل حضرت سمرہ کی حدیث ہے جو ابھی گزرگئی کہ وہ حدیث صحیح بھی ہے اور غیر منسوخ بھی۔اس حدیث میں ایک اشکال یہ بھی ہے کہ ادھار کی بیع میں وقت ادا مقرر ہونا چاہیے اور زکوۃ کے اونٹوں کی وصولی کا وقت مقرر نہیں،ہر شخص اپنا سال گزرنے پر زکوۃ دیتا ہے زکوۃ کے لیے کوئی مہینہ یا تاریخ مقرر نہیں ہوسکتی،غرضکہ یہ حدیث کسی طرح قابل عمل نہیں ضعیف ہے منسوخ ہے یا مجمل یا مشکل ہے،حدیث سمرہ اس پر ترجیح رکھتی ہے۔(لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2823