Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2819

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلٰكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ . رَوَاهُ الشَّافِعِي

وعن عبادة بن الصامت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق ولا البر بالبر ولا الشعير بالشعير ولا التمر بالتمر ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء عينا بعين يدا بيد ولكن بيعوا الذهب بالورق والورق بالذهب والبر بالشعير والشعير بالبر والتمر بالملح والملح بالتمر يدا بيد كيف شئتم . رواه الشافعي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی کے عوض چاندی،گیہوں کے عوض گیہوں،جو کے عوض جو،چھوہارے چھوہارے کے عوض اور نمک نمک کے عوض نہ بیچو مگر برابر برابر ۱؎نقد نقد سے ہاتھ بہ ہاتھ ۲؎لیکن سونے کو چاندی کے عوض اور چاندی کو سونے کے عوض اور گیہوں کو جو کے عوض اور جو کو گیہوں کے عوض،چھوہارے نمک کے عوض ہاتھ بہ ہاتھ جیسے چاہو بیچو ۳؎(شافعی)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ وزنی چیزوں کی برابری وزن سے ہوگی اور کیل یعنی ماپ والی چیزوں کی برابر ماپ سے،شریعت میں سونا چاندی وزنی ہیں اور گندم جو کیل،تو سونے چاندی دھاتوں کو وزن میں برابر کرکے خرید و فروخت کرو اور گندم جو کو ٹوپہ پیمانہ سے برابر کرکے فروخت کرو لہذا ایک سیر بھاری گندم کی بیع ایک سیر ہلکی گندم سے ناجائز ہے کہ یہ وزن میں تو برابر ہوئے مگر پیمانہ میں برابر نہیں لیکن گندم پیمانہ میں کم آئے گی وزن میں زیادہ ایسے ہی ایک سیر گندم کی بیع ایک سیر گندم کے آٹے سے ناجائز ہے کہ ایک سیر آٹا زیادہ گندم کا ہوتا ہے۔(ازمرقات)
۲
؎یعنی ہم جنس و ہم وزن چیزوں کی بیع میں زیادتی کمی بھی حرام ہے اور ادھار بھی حرام،برابر دو اور دو طرفہ نقد دو اور ہم وزن تو ہوں مگر ہم جنس نہ ہوں جیسے گندم وجو یا ہم جنس تو ہوں ہم وزن نہ ہوں جیسے اخروٹ یا انڈے کہ گن کر فروخت کیے جاتے ہیں تو ان میں زیادتی کمی جائز مگر ادھار حرام اور جنس و وزن دونوں میں مختلف ہوں تو کمی بیشی بھی حلال اور ادھار بھی درست جیسے روپیہ پیسہ سے مذکورہ چیزوں کی خرید و فروخت،اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کرو۔
۳
؎یعنی چونکہ ان کی جنسیں مختلف ہیں لہذا ان میں زیادتی کمی حلال ہے لیکن ہم وزن میں ادھار حرام ہوگا جیسا کہ پہلے حدیث میں اور ابھی شرح میں گزر چکا۔(مرقات و لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2819