Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2814

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَيْنَ هٰذَا؟» قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ رَدِيءٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ: «أَوِّهْ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلٰكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ التَّمرَ بِبَيْعٍ آخَرَثمَّ اشْتَرِ بِهٖ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي سعيد قال: جاء بلال إلى النبي صلى الله عليه وسلم بتمر برني فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: «من أين هذا؟» قال: كان عندنا تمر رديء فبعت منه صاعين بصاع فقال: «أوه عين الربا عين الربا لا تفعل ولكن إذا أردت أن تشتري فبع التمر ببيع آخرثم اشتر به »(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی سعید سے فرماتے ہیں کہ حضرت بلال نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں برنی کھجوریں لائے ۱؎تو ان سے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ کہاں سے آئے عرض کیا ہمارے پاس ردی کھجوریں تھیں تو میں نے اس کے دو صاع ایک صاع کے عوض بیچ دیئے فرمایا ہائے ۲؎بالکل سود بالکل سود یوں نہ کرو لیکن جب خریدنا چاہو تو چھوہارے دوسری بیع سے بیچ دو پھر اس سے خریدلو۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎برنی عرب کی مشہور و اعلٰی کھجورہے،ب کی فتح ر کے سکون یا فتح،قاموس میں ہے کہ یہ لفظ برنیک تھا بمعنی اچھا پھل،فارسی سے عربی میں منتقل کیا گیا اور برنی بنادیا گیا۔
۲
؎اَوِّہْالف کا فتح واؤ کی شد اور کسرہ،ہکا سکون یا واؤ اورہدونوں کا سکون یا واؤ کی الف سے تبدیلی،غرضکہاَوِّہْاُوْہْیاآہایسے الفاظ ہیں جو تکلیف،بیماری یا اظہار افسوس کے موقعہ پر بولے جاتے ہیں،یہاں حضور انور نے اظہار افسوس کے لیے فرمایا یعنی ہائے افسوس۔
۳
؎اس کی بھی وہی صورت ہے جو پہلے مذکور ہوئی یعنی اولًا دو صاع ردی کھجوریں ایک روپیہ کے عوض فروخت کردو،پھر اس روپیہ سے ایک صاع اعلٰی کھجوریں لے لو یہ دو بیعیں ہوجائیں گی اور سود نہ بنے گا۔وہ جو روایت میں آتا ہے کہ رزین ابن ارقم کی ام ولد نے عائشہ صدیقہ سے عرض کیا کہ میں نے زید کے ہاتھ آٹھ سو میں ایک لونڈی ادھار بیچی اور شرط یہ لگائی کہ جب بھی تم بیچو میرے ہاتھ بیچنا۔ چنانچہ قرض ادا ہونے سے پہلے میں نے یہ لونڈی زید ابن ارقم سے چھ سو میں خریدلی تو ام المؤمنین نے فرمایا زید ابن ارقم سے کہہ دینا کہ تمہارے سارے نیک اعمال باطل ہوگئے تم نے یہ بیع ناجائز کی۔(مالک و احمد)ام المؤمنین کے اس بیع کے ناجائز کہنے کی دو وجہ ہوسکتی ہیں:ادائے قرض کی صحیح مدت مقرر نہ ہونا، دوسری بیع بالشرط ہونا لہذا وہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2814