Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2831

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَي إِلَيْهِ أَوْ حَمَلَهٗ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهُ وَلَا يَقْبَلْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهٗ وَبَيْنَهٗ قَبْلَ ذٰلِكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أقرض أحدكم قرضا فأهدي إليه أو حمله على الدابة فلا يركبه ولا يقبلها إلا أن يكون جرى بينه وبينه قبل ذلك» . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے کوئی کچھ قرضہ کسی کو دے پھر مقروض اسے کچھ ہدیہ دے یا اسے اپنے گھوڑے پر سوار کرے تو سوار نہ ہو نہ ہدیہ قبول کرے ۱؎مگر اس صورت میں کہ ان دونوں کی آپس میں یہ رسم پہلے سے جاری ہو ۲؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر قرض خواہ و مقروض میں پہلے سےہدیہ کے لین دین یا اور خدمات کا دستور نہ تھا،قرض لینے کے بعد مقروض ہدیہ لایا یا عاریۃً گھوڑا وغیرہ پیش کیا تو ظاہر یہ ہے کہ قرض کی وجہ سے وہ یہ سب کچھ کررہا ہے،اس میں بھی سود کا اندیشہ ہے کہ جو قرض نفع دے وہ سود ہے اور ہدیہ اور گھوڑے کی سواری بھی تو نفع ہی ہے،جو اس قرض کا باعث ہوا لہذا اس میں سود کا احتمال ہے،ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰه علیہ سخت تیز دھوپ میں اپنے مقروض کی دیوار کے سایہ میں نہ کھڑے ہوئے دھوپ میں کھڑے رہے،عرض کرنے پر فرمایا کہ ڈرتا ہوں یہ سایہ سود نہ بن جائے۔
۲
؎کہ اب یہ ہدیہ قرض کی وجہ سے نہیں بلکہ پرانی دوستی کے سبب ہے،یہ ہی حکم حکام کے ہدایا اور دعوتوں کا ہے کہ وہ عام دعوتوں میں جاسکتے ہیں اور ان کے ہدیے اور خاص دعوتیں قبول کرسکتے ہیں جن کے سات حکومت ملنے سے پہلے ہی یہ تعلقات ہوں،حاکم بننے پر نہ کسی کی خاص دعوت کھائیں نہ ہدیے لیں کہ یہ بھی رشوت ہیں،لوگ دعوتیں اور ہدیے دے کر وقت پر اپنا کام نکالتے ہیں،ظلم کراتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2831