Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2810

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ وَلَا تبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ: "لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ"

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا منها غائبا بناجز »(متفق عليه) وفي رواية: "لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق إلا وزنا بوزن"

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ سونا سونے سے برابر کے بغیر نہ بیچو اور بعض کی بعض پر زیادتی نہ کرو ۱؎اور چاندی چاندی کے عوض برابر برابر کے بغیر نہ بیچو بعض کی بعض پر زیادتی نہ کرو ۲؎اور ادھار نقد کے عوض نہ بیچو۳؎(مسلم،بخاری) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ سونا سونے کے عوض اور چاندی چاندی کے عوض برابر برابر کے بغیر نہ بیچو۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سونا خواہ مضروب یعنی سرکاری سکہ ہو یا پترا،نیز نقشیں زیور ہو یا سادہ دو طرفہ وزن میں برابر ہونا ضروری ہے،اگر ایک تولہ سونا کی اشرفی دو تولے سونے کے پترے کے عوض فروخت کی یا دو تولہ کے جڑاؤ نقش و نگار والا زیور چار تولے سونے کے عوض بیچا تو حرام ہےنقش یا سکہ کا اعتبار نہیں وزن کا اعتبار ہے،یہ مسئلہ بہت خیال میں رکھنا چاہیے۔
۲
؎یعنی چاندی کی تجارت کا بھی یہ ہی حکم ہے کہ برابر کے عوض فروخت کرو لہذا اگر چاندی کے ایک روپیہ کے عوض دو تولہ چاندی لی تو حرام ہوا،آج کل روپیہ لوہے کا ہے اور نوٹ کاغذ کا اس لیے یہ بیع جائز ہے کہ ایک روپیہ کی دو تولہ چاندی لیں یا دو روپیہ کی چاندی ایک تولہ خریدیں کیونکہ لوہا یا کاغذ چاندی کی ہم جنس نہیں،بعض حجاج انگریزی دو روپیہ کی عوض سعودی ایک ریال لیتے تھے یہ حرام تھا کہ ادھر دو تولہ چاندی جاتی تھی اور ادھر ایک تولہ چاندی ملتی تھی اب نوٹ میں یہ قباحت نہیں۔
۳
؎خیال رہے کہ سود دو قسم کا ہے ایک زیادتی کا سود،دوسرے ادھار کا سود،زیادتی کے سود کی حرمت دو شرطوں پر موقوف ہے:ہم جنس ہونا،ہم وزن ہونا مگر ادھار کے سود کی حرمت صرف ایک شرط پر موقوف ہے یا ہم وزن ہونا یا ہم جنس ہونا لہذا سونے چاندی کی تجارت میں زیادتی حلال ہے کہ ایک تولہ سونا کے عوض چار تولہ چاندی لے لیں مگر ادھار حرام ہے،فورًا فریقین قبضہ کریں کسی طرف سے ادھار نہ ہو کہ سونا چاندی اگرچہ جنس الگ ہیں مگر وزن دونوں کا ایک ہے کہ دونوں تولہ ماشہ سے بکتے ہیں۔
۴
؎دونوں روایتوں میں فرق یہ ہے کہ وہاںمثلًا بمثلٍتھا اور یہاںوزنًا بوزنٍہے جس سے معلوم ہوا کہ سونے چاندی میں برابری وزن سے کرنا ضروری ہے،پیمائش سے برابری کافی نہیں،مثلًا دو انچ کا چاندی کا پترا تین انچ چاندی کے پترے کے عوض فروخت کرنا جائز ہے اور دونوں کا وزن برابر ہو اگر دو طرفہ دو انچ کے پترے چاندی کے ہوں مگر ان کے وزن میں فرق ہو تو بیع حرام،وزن کا لحاظ ہے اور وزن ہی کی برابری ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2810