Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2830

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرَّيبَةَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ

وعن عمر بن الخطاب إن آخر ما نزلت آية الربا وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض ولم يفسرها لنا فدعوا الربا والريبة. رواه ابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ جو آخری آیت اتری وہ سود کی آیت ہے ۱؎اور رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے وفات پائی سود کی پوری تشریح نہ کی ۲؎لہذا بچو سود سے بھی اور شک و شبہ سے بھی ۳؎(ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی احکام کی آیات میں سب سے آخر سود کی آیت اتری،اس کے بعد احکام شرعیہ کی کوئی آیت نہ آئی لہذا یہ محکم ہے منسوخ نہیں،وہ آیت یہ ہے"اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا"لخ لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سب سے آخری آیت"اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ"الخ ہے کہ مطلقًا آخری یہ آیت ہے اور معاملات و احکام آخری آیت سود کی آیت ہے۔
۲
؎یعنی حضور انور اس آیت کے نزول کے بعد بہت کم ظاہری حیات سے دنیا میں رہے اور جس قدر زمانہ حضور انور کو ملا وہ دوسرے اہم کاموں میں گزرا اس لیے اس آیت سود کی تفصیلی تفسیر نہ ہوسکی،صرف چھ چیزوں میں سود کی حرمت کی تفصیل فرمائی،نیز سود کی تفصیل قدرے واضح بھی تھی اور حضور انور نے چھ چیزوں کی تصریح فرما کر علماء امت کو قوانین سود کی رہبری بھی فرمادی تھی،اصول مقررکر دیئے تھے ان وجوہ سے تفصیل کی چنداں ضرورت نہ رہی تھی،پھر بعد میں علماء امت نے اس مسئلہ کو بھی بالکل واضح کردیا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ دین اسلام پورا واضح نہ ہوا کہ ایک مسئلہ مخفی رہ گیا،اصول تو اس کے بھی واضح ہوگئے،فروع مسائل بعد میں واضح ہوئے۔(از مرقات) ۳؎یعنی جن چیزوں کی تصریح حضور انور نے فرمادی ان میں بھی سود نہ لو،ان کے علاوہ دیگر چیزوں میں بھی سود سے بچو،جن میں سود یقینی ہے ان میں بھی نہ لو،جہاں سود کا شک ہو وہاں بھی بچو،وہم کا اعتبار نہیں شک و وہم میں فرق ہے،دلیل سے پیدا ہونے والا شبہ شک کہلاتا ہے بلا دلیل شبہ وہم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2830