Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2826

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرِّبَا سَبْعُونَ جُزْءًا أَيْسَرُهَا أَنْ يَنْكِحَ الرَّجُلُ أُمَّهُ»

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءا أيسرها أن ينكح الرجل أمه»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سود کے ستر حصے ہیں جن سے کمترین حصہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے زنا کرے ۱؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ماں سے زنا کرنا جب کمترین درجہ ہوا تو بقیہ درجے اس سے زیادہ سخت ہوں گے،چونکہ اہلِ عرب سود کے بہت زیادہ عادی تھے، ان سے سود چھوڑانا آسان نہ تھا اس لیے سود پر زیادہ وعیدیں وارد ہوئیں۔خیال رہے کہ زنا اکثر مرد عورت کی رضا مندی سے بلکہ زیادہ ترعورت کی رضا سے ہوتا ہے اسی لیے رب تعالٰی نے زنا میں عورت کا ذکر پہلے فرمایا۔کہ فرمایا"اَلزَّانِیَۃُ وَ الزَّانِیۡ"مگر سود میں مقروض کی رضا قطعًا نہیں ہوتی،اس وجہ سے بھی سود کے احکام سخت تر ہیں کہ یہ گناہ بھی ہے اور ظلم بھی صرف مقروض پر نہیں بلکہ اس کے سارے بچوں پر سود خوار ایک تیر سے بہت سوں کا شکار کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2826