Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2813

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلٰى خَيْبَرَ فَجَاءَهٗ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ: «أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هٰكَذَا ؟» قَالَ: لَا وَاللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هٰذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثِ فَقَالَ: «لَا تَفْعَلْ بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا» . وَقَالَ: «فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذٰلِكَ»

وعن أبي سعيد وأبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استعمل رجلا على خيبر فجاءه بتمر جنيب فقال: «أكل تمر خيبر هكذا ؟» قال: لا والله يا رسول الله إنا لنأخذ الصاع من هذا بالصاعين والصاعين بالثلاث فقال: «لا تفعل بع الجمع بالدراهم ثم ابتع بالدراهم جنيبا» . وقال: «في الميزان مثل ذلك»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو خیبر کا حاکم بنایا تو آپ کی خدمت میں اعلٰی درجے کے خرمے لائے ۱؎تو فرمایا کہ خیبر کے سارے چھوہارے ایسے ہی ہوتے ہیں عرض کیا نہیں یارسولاللّٰهہم ان چھوہاروں کا ایک صاع دو صاعوں کے عوض اور دو صاع تین کے عوض خرید لیتے ہیں ۲؎تو فرمایا ایسا نہ کرو ۳؎مخلوط کو درہموں کے عوض نہ بیچو اور درہموں سے کھرے خرید لو اور وزنی چیزوں کے متعلق بھی اسی طرح فرمایا ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎بطور ہدیہ پیشکش فرمانے کے لیے۔جنیب چھوہاروں کی ایک اعلٰی قسم کی نام ہے جیسے ہمارے ہاں شربتی گندم اعلٰی قسم کا ایک گندم ہے۔
۲
؎یعنی خیبر میں ہر قسم کے چھوہارے ہوتے ہیں اعلٰی بھی ردی بھی،ہم ردی سے اعلٰی خریدلیتے ہیں اس طرح کہ ارزانی کے زمانہ میں دو گنے ردی دیتے ہیں اور گرانی میں تگنے یا معمولی اعلٰی دو گنے کے عوض اور بہت اعلٰی تگنے کے عوض خرید لیتے ہیں،یہ بھی اسی طرح خریدے ہوئے ہیں کہ ردی خرمے دے کر اعلٰی خرمے اس سے نصف لیے گئے ہیں۔
۳
؎یعنی اب تک جو کرلیا وہ کرلیا اس پر پکڑ نہیں،آئندہ اس طرح تبادلہ نہ کرنا کہ یہ سود ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے لانے والے پر نہ تو عتاب فرمایا نہ ان کی کھجوروں کی واپسی کا حکم دیا،نہ انہیں ان کھجوروں کے استعمال سے منع فرمایا بلکہ ظاہر یہ ہے کہ ان کا یہ ہدیہ قبول بھی فرمالیا صرف آئندہ کے لیے منع فرمادیا کیونکہ ابھی سود کے قوانین شائع نہ ہوئے تھے،سود کی حرمت نئی نئی ہوئی تھی اور قانون یا تفصیل قانون شائع ہونے سے پہلے خلاف ورزی کرنے والوں پر عتاب نہیں ہوتا جب کہ بے خبری میں کریں،اس وقت بے خبری کا عذر درست ہوتا ہے مگر قانون شائع ہوچکنے کے بعد بے خبری عذر نہیں لہذا اب اگر کوئی اس طرح کی تجارت کرے گا تو مجرم بھی ہوگا اور یہ خرید و فروخت درست بھی نہ ہوگی لہذا حدیث واضح ہے۔
۴
؎یعنی درمیان میں پیسہ رکھ لو سود نہ بنے گا اور سود درست ہوجائے گا کہ مثلًا دو سیر ردی خرمے ایک روپیہ کے عوض بیچ دو،پھر اس روپیہ کے اعلٰی خرمے ایک سیر لے لو۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ سود کی علت ہم جنس اور ہم وزن ہونا ہے کہ حضور انور نے وزن کا لحاظ فرمایا،یہ ہی احناف کا مذہب ہے،امام شافعی کے ہاں سونا چاندی میں سود ہے اور کھانے کی چیزوں میں سود ہے۔طعمیت سود کی علت ہے یا ثمنیت یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔ دوسرے یہ کہ حرام سے بچنے کے لیے شرعی حیلے کرنے جائز ہیں اگر سو روپیہ دو سو روپیہ کی عوض فروخت کرنے ہوں تو اس سے سو روپیہ کے عوض کپڑے کا تھان خرید لو پھر وہ ہی تھان دو سو کے عوض فروخت کردو،یہ وہ ہی صورت ہے جس کی تعلیم یہاں دی گئی۔(مرقات)شرعی حیلوں کا ثبوت قرآن شریف سے بھی ہے۔ایّوب علیہ السلام نے بیماری کے زمانہ میں اپنی بیوی رحمت کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھائی تھی،صحت یاب ہونے پر رب نے ان سے فرمایا"خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ"ہاتھ میں جھاڑو لےکر مار دو اپنی قسم نہ توڑو۔یہ قسم پوری کرنے کا حیلہ ہوا مگر حرام سے بچنے کا حیلہ جائزہے،احکام شرعیہ میں تبدیلی کی نیت سے حیلہ کرنا حرام۔حیلہ کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ اول میں دیکھئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2813