Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2832

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَقْرَضَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلَا يَأْخُذُ هَدِيَّةً» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهٖ هٰكَذَا فِي الْمُنْتَقٰى

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أقرض الرجل الرجل فلا يأخذ هدية» . رواه البخاري في تاريخه هكذا في المنتقى

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب کوئی شخص کسی کو قرض دے تو اس سے ہدیہ قبول نہ کرے ۱؎(بخاری اپنی تاریخ میں)اسی طرح منتقیٰ میں ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ یہ ممانعتیں تنزیہی اور احتیاطی ہیں جن میں تقویٰ کا حکم دیا گیا ورنہ حقیقتًا سود وہ ہی ہے جس کی شرط لگائی جائے یا عرفًا مشروط ہو،امام مالک فرماتے ہیں کہ قرض خواہ اور حاکم ایسے ہدیے ہر گز قبول نہ کرے اور اگر قبول کرنا پڑ جائے تو اس کے عوض دے دے۔(مرقات مع زیادۃ)
۲
؎منتقیٰ بروزن مصطفی یا مجتبیٰ،حنبلی علماء میں سے ایک فقیہ عالم کی کتاب ہے جس میں فقہی مسائل کی ترتیب سے احادیث جمع کی گئی ہیں، اس کے مؤلف امام احمد ابن حنبل کے ساتھیوں میں سے کوئی صاحب ہیں۔ (اشعہ،لمعات،مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2832