Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2815

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهٗ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهٗ يُرِيدُهٗ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بِعْنِيهِفَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَهٗ حَتّٰى يَسْأَلَهٗ أَعَبْدٌ هُوَ أَوْ حُرٌّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: جاء عبد فبايع النبي صلى الله عليه وسلم على الهجرة ولم يشعر أنه عبد فجاء سيده يريده فقال له النبي صلى الله عليه وسلم «بعنيهفاشتراه بعبدين أسودين ولم يبايع أحدا بعده حتى يسأله أعبد هو أو حر. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک غلام آیا اس نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے ہجرت پر بیعت کی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ خیال نہ ہوا کہ وہ غلام ہے ۱؎پھر اس کا مولٰی اسے لینے آیا تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے فرمایا اسے ہمارے ہاتھ بیچ دو چنانچہ اسے دو حبشی غلاموں کے عوض خرید لیا اس کے بعد کسی سے بیعت نہ لی حتی کہ اس سے پوچھ لیتے کہ وہ غلام ہے یا آزاد ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حقیقتًا یہ بھاگا ہوا غلام تھا اس کا مقصود تھا مولٰی سے نجات پانا مگر ظاہر یہ کیا کہ مؤمن ہوں مہاجر بن کر آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں،حضور انور نے بھی اس کی تحقیق نہ فرمائی اور اس سے ہجرت پر بیعت لے لی۔خیال رہے کہ اگرچہ اللّٰه تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو ہر کھلے چھپے کی اطلاع دی ہے مگر علم کا ہر وقت حضور ضروری نہیں،حافظ کو سارا قرآن یاد ہوتا ہے مگر ہر لفظ ہر وقت سامنے نہیں رہتا لہذا اس سے حضور کی بے علمی ثابت کرنا حماقت ہے۔
۲
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ غلام مولٰی کی بغیر اجازت ہجرت نہیں کرسکتا۔ دوسرے یہ کہ بیعت فسخ نہیں ہوسکتی کہ حضور نے اسے خرید لیا مگر اس کی بیعت فسخ نہ کی۔تیسرے یہ کہ غیر سودی مال میں زیادتی کمی جائز ہے۔چنانچہ ایک بکری دو کے عوض فروخت کرسکتے ہیں کیونکہ حیوان سودی مال نہیں کہ یہ نہ کیلی ہے نہ وزنی،ہاں حیوان کی حیوان سے ادھار بیع ناجائز ہے،حضرت رافع ابن خدیج نے ایک اونٹ دو کے عوض بیچا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2815