Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2816

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالكَيْلِ الْمُسَمّٰى مِنَ التَّمْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الصبرة من التمر لا يعلم مكيلتها بالكيل المسمى من التمر. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا کہ چھوہاروں کے معلوم پیمانہ کے عوض چھوہاروں کا وہ ڈھیر بیچا جائے جس کا پیمانہ معلوم نہیں ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دو طرفہ کھجوریں ہوں،ایک جانب کی کھجوروں کا وزن معلوم ہو مگر دوسری کا معلوم نہ ہو،چونکہ یہ مال سودی ہے اور اس نامعلومیت کی وجہ سے سود ہوجانے کا اندیشہ ہے،ممکن ہے کہ وہ نامعلوم ڈھیر اس سے کم یا زیادہ ہو اس لیے منع فرمایا گیا،روپے یا گندم کے عوض کھجور کا نامعلوم ڈھیر خریدنا ناجائز ہے۔مشکوۃ کے اس نسخے میںمَکِیْلَتُھَاہے بمعنی مقدار کیل،اشعہ کے نسخے میںبِكَیْلِھَابمعنی کیل و پیمانہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2816