Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2821

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عَن بَيْعِ اللَّحْمِ بِالحَيَوَانِ قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن سعيد بن المسيب مرسلا: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع اللحم بالحيوان قال سعيد: كان من ميسر أهل الجاهلية. رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے(ارسالًا) ۱؎کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے جانور کے عوض گوشت بیچنے سے منع فرمایا ۲؎حضرت سعید فرماتے ہیں کہ یہ زمانہ جاہلیت کے جوئے سے تھا ۳؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت سعید ابن مسیب افضل تابعین سے ہیں،انہوں نے بغیر ذکر صحابہ حدیث کو حضور سے روایت فرمادیا،اسی کا نام ارسال ہے، حدیث مرسل امام شافعی کا ہاں معتبر نہیں،ہمارے ہاں معتبر ہیں۔
۲
؎اس حدیث کے ظاہری معنی پر حضرت امام شافعی کا عمل ہے،ان کے ہاں گوشت جانور کے عوض فروخت کرنا مطلقًا ممنوع ہے،خواہ گوشت اور جانور ایک ہی جنس کے ہوں یا مختلف جنس کے اور خواہ جانور حلال ہو یا حرام۔چنانچہ ان کے ہاں گائے کے گوشت کے عوض گدھا خریدنا بھی حرام ہے اور بکری کا گوشت خریدنا بھی حرام،امام محمد کے ہاں اگر جانور حلال ہو اور گوشت و جانور ہم جنس ہوں تو گوشت جانور کے گوشت سے زیادہ ہونا ضروری ہے،اگر بکری میں دس سیر گوشت ہے تو دوسرا گوشت بارہ تیرہ سیر چاہیے اوراگر جانور و گوشت زیادہ چاہیے تاکہ زیادتی کھال وغیرہ کے عوض ہوجائے اور اگر جانور و گوشت مختلف الجنس ہوں تو مطلقًا بیع درست ہے،امام اعظم کے ہاں یہ کوئی قید نہیں ان کے ہاں جانور کی بیع گوشت کے عوض ہر طرح جائز ہے اور اس حدیث میں ادھار بیع مراد ہے یعنی جانور کو گوشت کے عوض نقد بیچنا تو حلال ہے ادھار بیچنا حرام کہ جانور موٹا پتلا ہوتا رہتا ہے اور گوشت کا ادھار میں تعین مشکل ہوتاہے۔(لمعات و مرقات)
۳
؎یعنی کفار عرب کھیل کا بھی جوا کرتے تھے اور عقد کا بھی،یہ جانور و گوشت کی بیع کو عقد کا جُوا قرار دیتے تھے کہ اگر جانور میں گوشت سے زیادہ نکل آیا تو گوشت والا جیت گیا اور اگر کم نکلا تو جانور والا جیت گیا گوشت والا ہار گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2821