Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2828

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَيْتُ لَيْلَةً أُسْرِيَ بِي عَلٰى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرٰى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أتيت ليلة أسري بي على قوم بطونهم كالبيوت فيها الحيات ترى من خارج بطونهم فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء أكلة الربا ". رواه أحمد وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهنے ہم شبِ معراج اس قوم پر پہنچے جن کے پیٹ کوٹھڑیوں کی طرح تھے جن میں سانپ تھے جو پیٹوں کے باہر دیکھے جارہے تھے ۱؎ہم نے کہا اے جبریل یہ کون ہیں انہوں نے عرض کیا ۲؎یہ سود خوار ہیں۔(احمد،ابن ماجہ)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎حدیث بالکل ظاہر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں،حضور انور کی نگاہ حقیقت بین اور آخر بین ہے اس لیے آپ کی نگاہ نے وہ واقعہ دیکھ لیا جو آئندہ بعد قیامت ہونے والا تھا ورنہ اس وقت تو دوزخ میں کوئی نہ تھا،دوزخ و جنت میں سزا و جزا کے لیے داخلہ بعد قیامت ہوگا اور چونکہ سود خوار ہوسی ہوتا ہے کہ کھاتا تھوڑا ہے حرص و ہوس زیادہ کرتا ہے اس لیے ان کے پیٹ واقعی کوٹھڑیوں کی طرح ہوں گے، لوگوں کے مال جو ظلمًا وصول کیے تھے وہ سانپ بچھو کی شکل میں نمودار ہوں گے۔آج اگر ایک معمولی کیڑا پیٹ میں پیدا ہوجائے تو تندرستی بگڑ جاتی ہے،آدمی بے قرار ہوجاتا ہے تو سمجھ لو کہ جب اس کا پیٹ سانپوں،بچھوؤں سے بھر جائے تو اس کی تکلیف و بے قراری کا کیا حال ہوگا رب کی پناہ۔
۲
؎غالب یہ ہے کہ یہ واقعہ جسمانی معراج کا ہے صرف منامی یعنی خواب کی معراج کا نہیں کیونکہ جبریل امین کا ساتھ ہونا اور یہ سوال و جواب اس بیداری کی جسمانی معراج میں ہوئے ہیں۔
۳
؎اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ سود دینا بھی حرام ہے جرم ہے مگر سود لینا زیادہ سخت جرم ہے کہ حضور انور نے سود خوار کا یہ حال ملاحظہ فرمایا کہ سود خوار گنہگار بھی ظالم بھی،سود دینے والا گنہگار ہے مگر ظالم نہیں بلکہ مظلوم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2828