Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2829

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهٗ وَكَاتِبَهٗ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَكَانَ ينْهٰى عَنِ النَّوحِ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

وعن علي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن آكل الربا وموكله وكاتبه ومانع الصدقة وكان ينهى عن النوح. رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے کہ انہوں نے رسولاللّٰهکو سنا کہ آپ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے لکھنے والے زکوۃ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ۱؎اور آپ نے نوحہ سے منع فرماتے تھے ۲؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہی ہے کہ صدقہ سے مراد صدقہ واجبہ یعنی زکوۃ ہے یا زکوۃ بھی اور فطرہ و قربانی بھی یعنی جس مسلمان پر یہ صدقے واجب ہوں مگر نہ دے تو اس پر لعنت فرمائی،سود دینے والا لکھنے والا چونکہ سود خوار کے گناہ پر معاون و مددگار ہیں اس لیے سب لعنت میں آگئے،مسلمان اپنے خرچ کم کردیں،ضروریات کو حتی الامکان مختصر کریں مگر سودی قرض سے بچیں مسلمان اکثر مقدمہ بازیوں اور شادی غمی کی حرام رسموں میں سودی قرض لیتے ہیں۔
۲
؎مُردے کے غلط اوصاف بیان کرکے بلند آواز سے رونا قولی نوحہ ہے جیسے ہائے میرے پہاڑ،ہائے گھوڑی کے سوار وغیرہ اور پیٹنا،بال نوچنا،کپڑے پھاڑنا،سینہ کوٹنا،ماتم کرنا،عملی نوحہ یہ تمام ہی لعنت کا باعث اور سخت ممنوع ہے،رب تعالٰی نے صبر کا حکم دیا ہے نہ کہ کپڑے پھاڑ نے اور چیخنے چلانے کا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2829