Main Icon

باب:سود کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2818

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقٰى أَحَدٌ إِلَّا أَكَلَ الرِّبَا فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهٗ مِنْ بُخَارِهٖ » . وَيُرْوٰى مِنْ «غُبَارِهٖ » . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ليأتين على الناس زمان لا يبقى أحد إلا أكل الربا فإن لم يأكله أصابه من بخاره » . ويروى من «غباره » . رواه أحمد وأبو داود والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب کہ سود کھائے بغیر کوئی نہ رہے گا ۱؎اگر سود نہ بھی کھائے گا تو اسے سود کا اثر ضرور پہنچے گا یہ بھی روایت ہے کہ اس کا غبار پہنچے گا ۲؎(احمد،ابو داؤد،نسائی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ سود کا رواج عام ہوجائے گا اور ہر شخص بلاواسطہ یا بالواسطہ کبھی نہ کبھی سود کھا ضرور لے گا جیسا کہ آج کل ہورہا ہے کوئی کاروبار بغیر بینک کے نہیں چلتا اور کوئی بینک بغیر سود کے لین دین نہیں کرتا،اب اس سودی روپیہ سے جو کاروبار ہوگا اس میں سود ضرور شامل ہوگا۔
۲
؎یعنی اس زمانہ میں بعض لوگ سود لیں گے،بعض دیں گے،بعض سود کی گواہی تحریر وغیرہ کریں گے،بعض لوگ ان سودی کاروبار والوں کے گھر دعوت کھائیں گے،بعض لوگ ان سے دینی کاموں میں چندہ لیں گے،بہرحال یہ سودی پیسہ کسی نہ کسی ذریعہ ہر جگہ ضرور پہنچے گا۔
مسئلہ: جس کی آمدنی مخلوط ہو کہ حلال بھی ہو حرام بھی اس کے ہاں ملازمت کر کے تنخواہ لینا،اس سے چندہ لینا،اس کے ہاں دعوت کھانا وغیرہ سب کچھ جائز ہے،ہاں خالص حرام کمائی والے کے ہاں نہ ملازمت جائز نہ ان سے یہ معاملات درست۔(کتب فقہ)اسی لیے یہاں حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے سود عام ہوجانے کی خبر دی مگر ان سب لوگوں کو فاسق یا گنہگار نہ فرمایا سود خوار فاسق ہے مگر جسے سود کا غبار یا بخار پہنچے اسے فاسق نہیں کہہ سکتے،دیکھو رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے ہاں اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو ابو طالب کے ہاں پرورش کے لیے رکھا،ان کی کمائیاں یقینًا مخلوط تھیں،خالص حلال نہ تھیں،اگر مخلوط مال کی دعوت یا چندہ حرام ہوتے تو رب تعالٰی اپنے کلیم و حبیب صلوۃ اللّٰه علیہما وسلامہ کی پرورش ان کے ہاں نہ کراتا،نیز اگر مخلوط مال سے یہ سارے معاملہ بند کردیئے جائیں تو آج کوئی دینی ادارہ مدرسے،مسجدیں،خانقاہیں آباد نہیں رہ سکتے کہ ان میں ہرشخص سے چندہ لیا جاتا ہے خالص حلال کی تحقیق نہ کرتے ہیں نہ کرسکتے ہیں،یہ مسئلہ ضرور خیال میں رکھاجائے۔اس قاعدے سے آج کل کے بینک وغیرہ محکموں کی نوکریوں کا حال بھی معلوم ہوگیا۔یہ ضرور ہے کہ اس وقت خالص حلال روزی ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2818